تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 205 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 205

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ معقولیت پسند بھی ہیں مجھے ان کی کوئی خوشامد نہیں لیکن ان کی انسانیت اور خدا پرستی کا میں دل سے معترف ہوں"۔Bal اخبار ڈیلی گزٹ "کراچی کا مضمون اخبار ڈیلی گرٹ "کراچی (۱۳ مئی ۱۹۳۵ء) نے لکھا۔" آنریبل چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے چارج لینے سے پہلے اور بعد مسلمانوں کے سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں اس خطرناک مخالفت کے اثرات زیر بحث ہیں جو پنجاب کے بعض غیر ذمہ دار مسلمانوں کی طرف سے آپ کے تقرر کے خلاف کی جارہی ہے اور ان کی طرف سے اب یہ تجویز ہے کہ احرار اور ان کی قسم کے دوسرے مسلمانوں کو مسلم سر کردہ لیڈر یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کرا دیں کہ جناب چوہدری صاحب مسلمانوں کے اس قسم کے صحیح نمائندے ہیں جس طرح کوئی اور مسلم لیڈر ہو سکتا ہے نیز یہ کہ وہ ان لوگوں کو ان بر نتائج سے متنبہ کریں جو انہیں اس مسلم ممبر کی مخالفت کے سلسلہ کو جاری رکھنے سے بحیثیت قوم برداشت کرنے پڑیں گے۔ایسے سرکاری اور غیر سرکاری مسلم لیڈر اس امر کو قطعا برداشت نہیں کر سکتے کہ جناب چوہدری صاحب کی محض اس وجہ سے مخالفت کی جائے کہ وہ نہ سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ اور کہ وہ ایک ایسے فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے اور یہ کہ چونکہ مسلمانوں کا کثیر حصہ احمدی نہیں اس لئے وہ مسلمانوں کے نمائندے تصور نہیں کئے جاسکتے۔حالانکہ سرکردہ لیڈروں کے نزدیک چودھری صاحب ویسے ہی مسلمان ہیں جس طرح کوئی دوسرا مسلمان ہو سکتا ہے۔گویا یہ لوگ چودھری صاحب کے خلاف ایسے کمینہ حملوں کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ احرار اور دیگر مخالفین کی توجہ ان عظیم الشان خدمات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جو چودھری صاحب موصوف گول میز کانفرنس مسلم قوم کی خاطر بجا لائے اور انہوں نے ہزہائی نس سر آغا خان جیسی جلیل القدر شخصیت سے خراج تحسین حاصل کیا۔میں جناب چوہدری صاحب کے حامیوں کے لئے جو بات سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے۔وہ یہ ہے کہ جب تک چوہدری صاحب پنجاب پیجسلیٹو کونسل کے ممبر رہ کر ایک اہم مسلم حصہ کی نمائندگی کرتے رہے اس وقت تک ان لوگوں میں سے جو آج کل ان کے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں کسی ایک نے بھی آپ پر کبھی کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا اور یہ لوگ انہیں اپنے صوبہ میں باقاعدہ مسلم نمائندہ قرار دیتے رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں پنجاب کے اردو اخبارات میں احرار نے اس بناء پر