تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 206
تاریخ احمد بیت جلد ۶ مخالفت شروع کر رکھی ہے کہ چودھری صاحب اپنے ماتحت محکموں میں ملازم بھرتی کرتے ہوئے ایسے مسلمانوں کو ترجیح دیا کریں گے جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہوں شملہ کے مسلمان افسر احرار کی ایسی ناپسندیدہ حرکات کو نہایت بری نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ اس امر کو باور نہیں کر سکتے کہ چودھری صاحب جنہوں نے کبھی احمدیوں اور غیر احمدیوں میں تفریق نہیں کی اب ایسے فعل کے مرتکب ہوں۔جہاں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اس تمام مخالفت کو جو پنجاب میں ان کے خلاف تحریر ایا تقریرا کی جارہی ہے اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں وہاں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا تعلیم یافتہ طبقہ اس امر کو محسوس کر رہا ہے کہ احرار اور ان کے ہمنواؤں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرادی جائے کہ باوجود ان کی اندھادھند مخالفت کے چودھری صاحب موصوف پر اکثریت کا اعتماد ہے اور وہ انہیں وائسرائے کی کونسل میں مسلمانوں کا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہیں"۔اردو کے بعض مایہ ناز ادیبوں اور مسلمان ایک فاتح کی حیثیت سے اس بر صغیر میں فارسی زبان ساتھ لائے تھے پھر یہاں کے رہنے صحافیوں کا حضرت خلیفتہ اسیح سنے اور اختلاط و ارتباط سے خود بخود اردو زبان الثانی سے خصوصی تعلق بن گئی جس کی تعمیر و ارتقاء میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا برابر کا حصہ تھا۔مگر افسوس ہندو مسلم اتحاد کی اس بہترین یادگار کے بارے میں کانگریسی لیڈر گاندھی جی نے کہا۔اردو مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے قرآنی حروف میں لکھی جاتی ہے مسلمان بادشاہوں نے اسے اپنے زمانہ حکومت میں بنایا اور پھلایا تھا" - a یه نظریه تنها گاندھی جی کا نہیں تھا بلکہ کانگریس کے اکثر متعصب لیڈر در پردہ اسی کے حامی تھے یہی وجہ ہے کہ جب بعد کو کانگریسی وزارتوں کا قیام عمل میں آیا تو کانگریس نے با قاعدہ ایک مستقل محاذ اردو کے خلاف قائم کر لیا اور گاندھی جی کی اختراع کی ہوئی ”ہندوستانی " زبان کو فروغ دینے کے لئے زبر دست مہم چلائی گئی۔اور اس کے لئے سرکاری سطح پر بھی کوششیں کی گئیں۔غرض ملک میں یہ ایک لسانی کشمکش تھی جو سیاسی حقوق کی جنگ کے متوازی جاری تھی اور ہندو عناصر اس کوشش میں مصروف تھے کہ مسلمانوں کو ایک ایسی زبان سے محروم کر دیں جو ملکی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہونے کے علاوہ ان کی مذہبی اور اخلاقی روایات کی بھی امین اور محافظ ہے۔جیسا کہ " تاریخ احمدیت" کے گزشتہ واقعات سے واضح ہے اس معاملہ میں جماعت احمدیہ کی ہمدردی شروع ہی سے اردو کے ساتھ تھی کیونکہ اس کا نہ یہی لٹریچر زیادہ تر اسی زبان میں تھا اور خود