تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 191 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 191

تاریخ ا جلد 141 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حضرت سیٹھ صاحب کو بذریعہ تار اطلاع دی تھی کہ روانگی کے وقت پھلوں کی دو ٹوکریاں صاحبزادگان کو دی جائیں۔چنانچہ سیٹھ صاحب نے نہایت عمدہ پھلوں کی ٹوکریاں تیار کیں اور پیش کر دیں۔عجیب بات یہ ہوئی کہ انہوں نے ایک رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور حضور نے تین سو روپیہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے سیٹھ صاحب نے اپنی میز میں دیکھا تو وہاں صرف تیں روپے تھے جو آپ نے میز پر رکھ دیئے اس کے بعد آپ کی آنکھ کھل گئی عجیب بات یہ ہوئی کہ اس تقریب پر ان کے پورے تھیں روپے خرچ ہوئے۔اور آپ کو بہت خوشی ہوئی کہ خدا تعالی کے حضور آپ کے تمھیں روپے تین سو کے برابر ہیں۔بمبئی سے سویز تک حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور مرزا سعید احمد صاحب ناشتہ کر چکے تو حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب اور حضرت عرفانی کبیران کے ہمراہ تختہ جہاز تک آگئے اور ان کو ہار پہنائے اور نہایت رقت بھری دعاؤں سے رخصت کیا۔جب تک جہاز نظر آتا رہا۔حضرت سیٹھ صاحب اور دوسرے احباب جماعت کھڑے رہے اور دعا میں کرتے رہے یوسف علی صاحب عرفانی نے الوداع کے وقت کئی فوٹو لئے خود حضرت صاجزادہ صاحب نے بھی تختہ جہاز پر موجود احباب کا فوٹو لیا۔جہاز بمبئی سے چل کر نویں روز ۱۶/ ستمبر ۱۹۳۴ء کو نو بجے سویز میں لنگر انداز ہوا جہاں مولانا ابو العطاء صاحب مبلغ فلسطین و مصر او ر احمد آفندی محمودی ذہنی نے خیر مقدم کیا اور یہ چاروں حضرات موٹر میں بارہ بجے قاہرہ پہنچے اور عجائب گھر دیکھنے کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب دار التبلیغ میں گئے ظہر و عصر کی نماز اور کھانے سے فراغت کے بعد مصر کے آثار قدیمہ میں سے اہرامات اور ابو الہول کی تمثال دیکھنے گئے۔السید محی الدین آفندی الحسنی نے حضرت صاجزادہ صاحب کے اعزاز میں ایک ٹی پارٹی کا انتظام اپنے مکان پر کر رکھا تھا۔جہاں بعض شیعہ اہل حدیث ، حنفی اور مسیحی دبہائی دوستوں کے علاوہ جماعت احمدیہ قاہرہ کے تمام احباب موجود تھے۔اس دعوت اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی آمد کا ذکر قاہرہ کے اخبار "المقطم" نے بھی کیا۔سوا چار بجے کے قریب تعارف اور مختصر گفتگو کے بعد جس میں سب حاضرین نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں خوش آمدید کہا اور چائے پیش کی۔پھر مجمع کا فوٹو لیا گیا یہ فوٹو اخبار " المقطم " میں بھی شائع ہوا۔اور اس کتاب میں بھی موجود ہے۔فوٹو لینے کے بعد مصر کے مشہور ترین عالم الشیخ محمد عبدہ کے ایک شاگرد الشیخ علی الازہری اور ایک نوجوان تاجرا ابراہیم نامی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور مولانا ابو العطاء صاحب نے سید نا حضرت خلیفتہ الصحیح الثانی کی مستقل اجازت کے مطابق بیعت لی۔