تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 192
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۱۹۲ مولانا ابو العطاء صاحب نے جماعت احمدیہ قاہرہ کی طرف سے حضرت صاحبزادہ صاحب کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ سفر کے لئے الوادع کہا پھر حضرت صاحبزادہ صاحب نے مختصر مگر پر معزز تقریر فرمائی اور دعا پر یہ اجتماع ختم ہوا اور دوست اسٹیشن پر الوداع کہنے کے لئے روانہ ہوئے ٹھیک چھ بجے گاڑی روانہ ہوئی اور تمام دوست مصافحہ کے بعد پلیٹ فارم پر کھڑے دعا کرتے رہے گاڑی ساڑھے دس بجے پورٹ سعید پہنچی۔ڈھائی بجے رات مولانا ابو العطاء صاحب، حضرت صاحبزادہ صاحب اور مرزا سعید احمد صاحب کو جہاز پر الوداع کہہ کر واپس روانہ ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی نہایت ہی مختصری فرصت میں نہایت گہرا اثر احباب کے دلوں پر چھوڑا۔سادہ زندگی اور محبت سے بھرے ہوئے اخلاق کا ایک پاکیزہ اور مقدس نمونہ آپ میں نظر آتا تھا۔سویز سے لنڈن تک حضرت صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے عرشہ جہاز سے ایک خط ہوائی ڈاک کے ذریعہ سے مولانا عبد الرحیم صاحب درد مبلغ لنڈن کو Mor ارسال فرمایا کہ ہم ۲۲/ ستمبر ۱۹۳۴ء کو لنڈن پہنچیں گے اس اطلاع کے مطابق ۲۲ ستمبر کو ڈیڑھ بجے دو پر جہاز ساحل انگلستان پر پہنچا۔اس وقت سمندر میں خفیف سا تلاطم تھا بادل اور ہوا کی وجہ سے کچھ سردی بھی تھی اس لئے صاجزادگان کمرہ کے اندرہی تشریف فرما تھے انہوں نے کنارہ پر قدم رکھاہی تھا کہ مولانا عبد الرحیم صاحب درد - صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور مشہور نو مسلم انگریز بھائی مسٹر مبارک احمد صاحب فیولنگ نے خوش آمدید کہا اور معانقہ و مصافحہ کیا اور کٹم ہاؤس سے نکل کر گاڑی میں بیٹھے۔گاڑی لنڈن کے ریلوے اسٹیشن وکٹوریہ پر پہنچی تو بارش ہو رہی تھی۔اسٹیشن پر چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ، مولوی محمد یا ر صاحب عارف اور کئی اور دوست موجود تھے چودھری صاحب موصوف نے حضرت اقدس کو تار دے دیا کہ صاحبزادگان خدا کے فضل سے بخیریت پہنچ گئے ہیں۔دونوں کے گلے میں ہار ڈالے گئے اور مسٹر عبد اللہ رائن کی کار میں بیٹھ کر سوا چار بجے مسجد میں پہنچ گئے۔حضرت ام ناصر (حرم اول سید نا خلیفتہ المسیح الثانی) نے کمال شفقت و نوازش سے اپنے پیارے بیٹے اور مرزا منصور احمد صاحب کے نکاح پر تقسیم ہونے والے چھوہاروں کا ایک لفافہ مولانا درد صاحب کے لئے دیا تھا۔جو ان کو پہنچادیا گیا چھوہارے نہ صرف مولانا در د صاحب نے خود کھائے بلکہ تمام موجود دوستوں کو کھلائے اور سب نے دعائیں دیں کہ ہزاروں میل کے فاصلہ پر دور افتادہ خدام کو بھی نکاح کی تقریب میں شامل فرمالیا۔