تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 180 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 180

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ IA, بہادری سے یا اللہ تعالی کی مدد سے؟ اگر آپ کی بہادری سے ایسا ہو ا تھا تو انگریزوں کے مقابلہ میں آپ کی تلواریں کیوں ٹوٹ گئی تھیں۔یاد رکھیں کہ خدا تعالی کی یہی سنت ہے کہ وہ کبھی کسی قوم کو بڑھاتا ہے کبھی کسی قوم کو۔کبھی مغلوں کی تلواروں کے آگے پنجاب کے سورماؤں کے باپ دادا اور ہندوستان کے راجے بھیڑوں اور بکریوں کی طرح بھاگتے پھرتے تھے پھر وہ وقت آیا کہ مرہٹوں اور سکھوں جیسی چھوٹی چھوٹی قوموں نے ان کے چھکے چھڑا دیئے۔پھر وہی مرہٹے احمد شاہ ابدالی کے سامنے پیٹھ دکھا کر ایسے بھاگے کہ سینکڑوں میل تک ان کا پتہ نہ تھا اور رہی سکھ انگریزی فوجوں سے اس قدر خائف ہوئے کہ تو ہیں تک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔پس سوال بہادری کا نہیں۔سوال خدا تعالی کی دین کا ہے۔منہ کے دعوے نجات نہیں دیتے۔خدا تعالی کا خوف انسان کو عزت دیتا ہے پس جس جگہ کو خدا تعالی بڑھانا چاہتا ہے اس کے متعلق ایسے دعوے کر کے جن کا کوئی بھی فائدہ نہیں اپنی عاقبت نہ بگاڑیں۔ہو تا وہی ہے جو خداتعالی چاہتا ہے۔اور خداتعالی نے اس وقت اپنا نور قادیان میں اتارا ہے۔پس خدا کا خوف کرتے ہوئے خدا تعالی کی آواز کو سنیں اور ٹھنڈے دل اور نیک ارادوں سے اس بات کو سنیں جسے ایک شخص نے خدا تعالٰی کی طرف سے پاکر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔یہ دنیا چند روزہ ہے نہ پہلے کوئی رہا نہ اب رہے گا۔نہ آپ رہیں گے نہ میں رہوں گا۔نہ آپ کے سامعین رہیں گے۔ہم سب کوئی آگے کوئی پیچھے خدا تعالی کے سامنے جانے والے ہیں پس عاقبت کی فکر کیجئے اور ایسے الفاظ منہ سے نہ نکالئے جو خداتعالی کی شان میں گستاخی کا موجب ہیں "۔جب یہ اشتہار سردار کھڑک سنگھ صاحب تک پہنچاتو انہوں نے دوسرے ہی دن جلسہ گاہ میں سٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا کہ تم نے مجھے سخت ذلیل کرایا ہے کیونکہ جو باتیں تم نے مجھے بتائی تھیں وہ اور تھیں اور جو باتیں اس اشتہار میں لکھی ہیں وہ بالکل اور ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی تک لاہور میں شاندار لیکچر سید نا حضرت مصلح موعود نے پنجاب لٹریری لیگ کی تحریک پر جس کے عمائدہ پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے لاہور میں دو لیکچر دینے منظور فرمائے تھے۔اس کے مطابق حضور کا پہلا لیکچر " عربی زبان کا مقام السنہ عالم میں" کے موضوع پر ۳۱ / مئی ۱۹۳۴ء کو دائی۔ایم۔سی اے کے ہال واقعہ مال روڈ پر ٹھیک ۱/۲ ۸ بجے شب زیر صدارت جناب ڈاکٹر برکت علی صاحب قریشی ایم۔اے پی ایچ ڈی پرنسپل اسلامیہ کالج ہوا۔سامعین سات بجے سے ہی آنے شروع ہو گئے اور لیکچر کے شروع ہونے تک ہاں اپنی گنجائش سے دو گنا بھر گیا۔اور بعد میں آنے والوں کو جگہ کی قلت کی وجہ سے واپس جانا پڑا۔حضور کا لیکچر