تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 179
تاریخ احمد بیت - جلد ۶ 164 انتظام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے یا نہیں ؟ ہاں انہیں قسم دے کر پوچھئے کہ انفلوائنزا کے دنوں میں جبکہ میں اور میرے گھر کے سب لوگ تکلیف میں مبتلا تھے قادیان کا ہر گھر مریضوں کی چیخ وپکار سے ایک میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا اس وقت اپنے پاس سے دوائیں دے کر اور اطباء اور ڈاکٹروں کو فارغ کر کے ان کے علاج کے لئے چھ چھ سات سات میل تک باہر بھجوایا یا نہیں اور یہ بھی ان سے پوچھئے کہ کوئی ایسے سکھ طالب علم انہیں معلوم ہیں یا نہیں جن کی تعلیم کے لئے میں نے مدد کی اور کوئی ایسے سکھ خاندان ہیں یا نہیں جنہوں نے اپنی مشکلات میں میری طرف رجوع کیا اور میں نے ہر ایک طرح ان کی امداد کی۔دور کیوں جاتے ہیں اسی علاقہ کے رئیس خاندان سے جہاں آپ کا جلسہ ہو رہا ہے پوچھیں کہ بعض سکھ خاندانوں کے اختلاف کے وقت میں نے انہیں تباہی سے بچانے کے لئے باہمی سمجھوتے کرائے یا نہیں ان کی خاندانی وجاہتوں کے خطرہ میں پڑنے کے وقت ان کا پوری طرح ساتھ دیا یا نہیں "۔سکھ لیڈروں نے اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے جو بلند بانگ دعاوی کئے تھے ان کی نسبت نہایت محبت بھرے الفاظ میں توجہ دلائی۔فرمایا۔” سردار صاحب! میں اس بارہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ فقرہ کہنے میں تقویٰ سے کام نہیں لیا۔اینٹ سے اینٹ بجانا خد اتعالیٰ کا کام ہے بندوں کا کام نہیں۔منہ سے دعوی کرنے پر تو کچھ خرچ نہیں ہو تا۔اگر میں بھی آپ ہی کی طرح جوش میں آنے والا ہو تا تو شاید میں بھی آپ کے اس ) دعوئی کو سن کر یہ کہہ دیتا کہ میں بھی آپ کے مقدس مقامات کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے تقویٰ عطا فرمایا ہے۔جب میں نے آپ کا یہ دعوی سنا تو بجائے کوئی ایسا فقرہ کہنے کے مجھے آپ پر رحم آیا اور میں نے کہا کہ میرے اس بھائی کو اگر خداتعالی کی معرفت نصیب ہوتی تو کبھی یہ ایساد عوئی نہ کرتا۔جس شخص کو اپنی زندگی کے ایک منٹ پر اختیار نہ ہو اس کا یہ کہنا کہ وہ فلاں جگہ کی اینٹ سے سینٹ بجادے گا۔ایک قابل رحم امر نہیں تو اور کیا ہے۔سردار صاحب اجب آپ کے گورو صاحب ظاہر ہوئے تھے تو وہ بھی ظاہر حالت میں کمزور تھے اور اس وقت کے طاقتور لوگ بھی آپ کی طرح یہ کہا کرتے تھے کہ ہم چاہیں تو ان کو یوں نقصان پہنچادیں یوں ذلیل کر دیں۔مگر آپ کو معلوم ہی ہے کہ وہ غریب ماں باپ کا بیٹا کس طرح خد اتعالیٰ کی حفاظت میں رات اور دن ترقی کرتا چلا گیا اور اس کے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے اپنے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دیکھو مغل ہمارے مقابلہ میں کس طرح تباہ ہو گئے۔میں اس امر کو صحیح مان لیتا ہوں۔مگر پوچھتا ہوں کہ آخر وہ کیوں تباہ ہو گئے ؟ کیا سردار کھڑک سنگھ کی