تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 181
تاریخ احمدیت جلد ۷ AI ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔جسے سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سنا۔اختتام پر جناب صدر نے شکریہ ادا کرنے کے بعد حاضرین کو لیکچر سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی اور خواہش ظاہر کی کہ ایسے علمی مضامین پھر بھی سننے کا موقعہ ملے۔سامعین میں علمی طبقہ کے ہر خیال کے اصحاب شامل تھے۔احمدی دوست ہی کافی تعداد میں شریک ہوئے اور بعض دوست باہر کی جماعتوں سے خصوصاً دار الامان کے احباب و بزرگان بھی شامل ہوئے۔جناب لالہ کنور حسین صاحب سابق چیف جج کشمیر جو جناب لالہ معمیم سین صاحب کے فرزند ارجمند ہیں۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر اور صاحب صدر کے شکریہ کے بعد خاص طور پر شکر گزاری کے جذبات سے لبریز انگریزی میں ایک موثر تقریر فرمائی جس کا مفہوم یہ تھا کہ آج قابل لیکچرار نے زبان عربی کی فضیلت پر جو دلچسپ اور معرکتہ الاراء تقریر کی ہے۔اسے سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔اور اس لحاظ سے بھی مجھے خوشی ہے کہ ذاتی طور پر میرے آپ سے تعلقات ہیں۔چنانچہ ان کے والد ماجد سے میرے والد صاحب نے عربی زبان سیکھی تھی۔جب میں لیکچر سننے کے لئے آیا۔اس وقت میں نے خیال کیا تھا۔کہ مضمون اس رنگ میں بیان کیا جائے گا۔جس طرح پرانی طرز کے لوگ بیان کیا کرتے ہیں۔مشہور ہے کہ کسی عرب سے ایک دفعہ زبان عربی کی فضیلت کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے کہا کہ اسے تین وجہ سے فضیلت حاصل ہے۔اس لئے کہ میں عرب کا رہنے والا ہوں دوسرے اس لئے کہ قرآن مجید کی زبان ہے تیسرے اس لئے کہ جنت میں بھی عربی بولی جائے گی۔میں سمجھا تھا کہ شاید اس قم کی باتیں زبان عربی کی فضیلت میں پیش کی جائیں گی۔مگر جو لیکچر دیا گیا وہ نہایت ہی عالمانہ اور فلسفیانہ شان اپنے اندر رکھتا ہے۔میں جناب مرزا صاحب کو یقین ولا تا ہوں کہ میں نے ان کے لیکچر کے ایک ایک حرف کو پوری توجہ اور کامل غور کے ساتھ سنا ہے اور میں نے اس سے بہت ہی حظ اٹھایا اور فائدہ حاصل کیا ہے۔مجھے امید ہے کہ اس لیکچر کا اثر مدتوں میرے دل پر رہے گا میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ جن دوسرے احباب نے اس مضمون کو سنا ہے وہ بھی تادیر اس کا اثر اپنے دلوں میں محسوس کریں گے۔باقی زبان کے متعلق چونکہ نظریوں میں اختلاف ہے اور سنسکرت زبان بھی بہت سے قواعد پر مبنی ہے۔اس لئے عربی اور سنسکرت کا مقابلہ کرنے میں نہیں پڑتا چاہتا۔اور ایک دفعہ پھر قابل لیکچرار کے بیش قیمت لیکچر کا دلی اخلاص سے شکریہ ادا کر تا ہوں۔دوسرا لیکچر ای لیگ کے زیر انتظام ٹاؤن ہال میں ۲ / جون کو ہوا۔یہ ہال پہلے ہال سے وسیع تھا اور اس میں ایک ہزار سامعین کے لئے گنجائش تھی۔پہلے لیکچر کی طرح اس لیکچر کا داخلہ بھی بذریعہ ٹکٹ تھا۔ٹکٹ کی قیمت ۲ تھی۔اس دفعہ جماعت احمدیہ لاہور کو ہدایت کی گئی تھی کہ جب تک دوسروں کو جگہ نہ مل جائے۔وہ ہال میں نہ جائیں۔چنانچہ جب دوسرے دوست اچھی طرح بیٹھ گئے تب جماعت لاہور کو