تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 177 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 177

تاریخ احمدیت جلد ۲ 186 ہو گئے اور سید عبد الغفار صاحب کئی گھنٹہ کے بعد زندہ نکالے گئے جس مکان کی دیوار ان پر گری وہ کسی روئی کے تاجر کا تھا۔روئی یا سوت کا ایک گٹھا ان کے اوپر پہلے گرا پھر دیوار آپڑی انہیں سانس لینے کا موقعہ اس گٹھے کی وجہ سے مل گیا۔ان کا بیان ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی الہامی و عارب کل شیء خادمک رب فاحفظني وانصرنی وارحمنی ا پڑھتا رہا۔سید وزارت حسین صاحب کے دو بھتیجے اور داماد اور ایک لڑکا مظفر پور میں تھے۔وہ لوگ بھی محض قدرت الہی سے بچ گئے۔عورتیں عید کے لئے کچھ دن پہلے اور ین اپنے گاؤں میں چلی گئی تھیں اور لوگ مکان سے نکل بھاگے اور بچ گئے۔لڑکا دو منزلہ پر تھا مکان گر گیا اور کئی ہزار کا زیور - نقدی اور سامان دب گیا۔لوگ کسی طرح چوتھے دن اورین پہنچ گئے۔ڈاکٹر الہی بخش صاحب مرحوم کے فرزند محمد اسمعیل صاحب بھی مظفر پور میں تھے وہ بھی محفوظ رہے۔الغرض سوائے ایک احمدی کے بہار میں کوئی احمدی زلزلہ کے حادثہ میں فوت نہیں ہوا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس ہیبت ناک زلزلہ کے آنے سے پہلے حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری اور ان کی اہلیہ صاحبہ سید وزارت حسین صاحب بھائی منظور عالم صاحب بھائی شمس الہدی صاحب وغیرہ بہاری احمدیوں کو منذر خواہیں آئیں اور حکیم خلیل احمد صاحب کو تو صاف دکھایا گیا کہ بہت بڑا زلزلہ آیا ہے اور سخت بد حواسی پھیلی ہوئی ہے۔سکھوں کا اشتعال انگیز اجتماع ۲۶ - ۲۸-۲۷ / مئی ۱۹۳۴ء کو سکھوں کا قادیان سے قریباً میل سوا میل مشرق کی طرف موضع بسرا کے قریب بوہڑی صاحب میں ایک بہت بڑا اجتماع ہوا۔جس میں سردار کھڑک سنگھ صاحب Fan خاص طور پر شامل تھے جنہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز اور دل آزار تقریریں کیں۔چنانچہ سردار صاحب نے نذبح قادیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ احمدی قادیان میں سکھوں پر سخت ظلم کر رہے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ انہیں شہ دیتی ہے اس لئے انگریزوں کو اگر سیدھا کر دیا جائے تو احمدی خود بخود سیدھے ہو جائیں گے۔نیز کہا احمدی اگر باز نہ آئے تو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی۔اسی طرح ایک اور سکھ لیڈر نے دھمکی دی کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔سکھوں کے اس جلسہ میں ایک احراری مولوی عنایت اللہ صاحب) نے سکھوں کو اشتعال دلایا کہ سکھ بڑے بے غیرت ہیں کہ احمدی ان کے گورو کو مسلمان کہتے ہیں اور پھر بھی ان کو غیرت نہیں آتی۔cri