تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 178 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 178

تاریخ احمد بیت - جلد ۷ ILA حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ۲۷/ مئی کو یہ دلازار تقریریں کی گئیں اور اسی روز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں طرف سے سردار کھڑک سنگھ اور ان کی مفصل ڈائری پہنچ گئی۔جس پر حضور نے ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق ایک اہم مضمون رقم فرمایا۔جو راتوں رات چھپوا کر ۲۸ / مئی کو سکھوں کے جلسہ میں بکثرت تقسیم کیا گیا اور بعد کو اس کا گور مکھی ترجمہ بھی ! سید نا حضرت امیر المومنین نے اپنے اس مضمون میں خاص طور پر گزشتہ واقعات کی روشنی میں اس غلط فہمی کا پوری طرح ازالہ کیا کہ احمدی سکھوں پر ظلم کرتے ہیں چنانچہ حضور نے سردار کھڑک سنگھ صاحب اور ان کے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کی تحقیق بالکل غلط ہے۔احمدی سکھوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور اگر آپ اس علاقہ کے سکھوں سے فردا فردادہ قسم دے کر جسے پنجابی میں ودھ پت کی قسم کہتے ہیں پوچھیں تو ان میں سے 99 فیصدی آپ کو یہ بتائیں گے کہ میں اور میرا خاندان اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے ہمیشہ سکھوں سے محبت کا برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں اور جو کوئی مصیبت زدہ ہمارے پاس آیا ہے ہم نے اس کی مدد کی ہے بالکل ممکن ہے کہ بعض نادان احمدیوں نے بعض سکھوں سے ناواجب سلوک کیا ہو لیکن ان سے پوچھیں کہ جب کبھی میرے پاس ایسی رپورٹ ہوئی۔اور میں نے احمدی کو خطاوار پایا میں نے اسے سزادی یا نہیں دی۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ایک احمدی نے اپنی کتاب میں حضرت باد صاحب کے متعلق کچھ الفاظ سوء ادبی کے لکھ دیئے تھے میرے پاس سکھوں کا دفعہ آیا۔تو میں نے نہ صرف یہ کہ اس احمدی کو سخت سرزنش کی بلکہ اس کی کتاب کو ضبط کر لیا اور وہ صفحات تلف کروائے جو سکھ صاحبان کے لئے دل آزار تھے۔ارد گرد کے سکھوں کو آپ قسم دے کر پوچھیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی خاطر پندرہ سال تک میں نے قادیان میں مذبح نہیں بننے دیا اور اب بھی مذیح صرف چند نادانوں کی نادانی کی وجہ سے بنا ہے ورنہ میں نے ہندو اور سکھ رؤساء کو یقین دلایا تھا کہ اگر وہ مجھ پر چھوڑ دیں تو ان کے احساسات کا پورا خیال رکھا جائے گا لیکن افسوس کہ مفسده پرداز لوگوں نے مجھ پر اعتبار نہ کیا اور دھمکیاں دینی شروع کر دیں جن کی وجہ سے تھے اپنا قدم بیچ میں سے ہٹانا پڑا۔سردار صاحب یہاں کے سکھوں کو قسم دے کر پوچھیں کہ ان کی درخواست پر میں نے اپنے سکول میں ان کے لئے خاص انتظام کیا یا نہیں۔اور اس وقت جب وہ مجھ سے لڑ رہے تھے آریوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے پر میں نے ماضی کو بھلا کر پھر ان کے بچوں کے لئے ان کے حسب دل خواہ تعلیم کا