تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 173 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 173

تاریخ احمدیت جلد ۲ KF ہیں اور دوسری طرف اسلام کی اتنی ہتک کرتے ہیں کہ امامت اور نبوت کے مدعی بنتے ہیں۔کہتے ہیں اسی غصہ کے جوش میں ایک احمدی کے ہاں گیا اور اس سے کہا کہ آپ لوگ اندر سے اور ہیں اور باہر سے اور منہ سے تو اسلامی ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب مستقل نبوت کے مدعی ہیں۔انہوں نے بڑی نرمی سے کہا کہ ذرا بیٹھ جائیے اور پھر ایک ایک اعتراض لے کر انہوں نے مجھے حوالے کتابوں سے دکھانے شروع کئے جو بھی وہ حوالہ نکالیں۔اصل عبارت میں کچھ اور ہوتا اور اشتہار میں کچھ اور اس طرح دو دن وہ مجھے سمجھاتے رہے۔جب میں اچھی طرح سمجھ گیا۔تو پھر مجھے اس مولوی صاحب پر غصہ آیا جس نے اشتہار شائع کیا تھا۔میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے عجیب را ہنما ہیں۔اشتہار میں لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب فلاں فلاں عقیدہ رکھتے تھے۔حالانکہ اصل کتابیں میں نے دیکھی ہیں وہاں کچھ اور ہی لکھا ہے۔مولوی صاحب میری بات سنتے ہی ناراض ہو گئے اور کہنے لگے تم کسی احمدی کے پاس گئے ہی کیوں تھے۔میں نے کہا تم یہ بتاؤ تم نے جھوٹ کیوں بولا۔آخر وہ مولوی صاحب مجھ سے سخت ناراض ہو گئے اور میں سمجھا کہ اب مجھے تحقیق کرنی چاہئے پندرہ میں دن تحقیق کی تو حق مجھ پر کھل گیا اور میں بیعت کے لئے تیار ہو گیا۔دیکھو یہ مخالفت ہی تھی جو انہیں ادھر لانے کا ذریعہ بنی۔کیونکہ ان کے احمدی بنانے کا ذریعہ ہم نہیں تھے بلکہ غیر احمدی امام مسجد صاحب ذریعہ ہے۔تو کئی دفعہ مخالفتیں فائدہ بخش ہو جاتی ہیں۔میں نے اس سفر سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ باوجود مخالفت کے خدا تعالٰی کا یہ فضل بھی ہو رہا ہے کہ اس مخالفت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف پھر رہی ہے۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اتنی بیعت ایک دن کے لیکچر کا نتیجہ تھی۔بلکہ ان لوگوں کو پہلے سے تبلیغ ہو چکی تھی۔لیکن وہ تین ہزار سے چھ ہزار لوگ جو جلسوں میں شامل ہوتے رہے ان کے دلوں میں بھی ایک بیج بویا گیا ہے جو آج نہیں تو کل اور اس مہینہ میں نہیں تو اگلے مہینہ میں پھوٹے گا۔جب باوجو د نکاح ٹوٹ جانے کی دھمکی دیئے جانے کے وہ شوق سے ہمارے جلسوں میں آئے تو اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہدایت کی تڑپ ہے جو کسی دن اپنا رنگ لائے گی۔سب سے زیادہ ڈر لوگوں کو نکاح ٹوٹنے کا ہوتا ہے اور یہی مولویوں کا آخری ہتھیار ہے جس سے وہ کام لیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔عرض نکاحوں کا سوال ایک اہم سوال ہوتا ہے اور لوگوں کے لئے اس قسم کے فتوئی کے بعد جلسوں میں شامل ہونا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ عام طور پر عورتیں کمزور ہوتی ہیں اور وہ خیال کرلیتی ہیں کہ اگر ہمارے مرد فتوئی کی زد میں آگئے تو اس کے بعد ہمارا اپنے گھر میں رہنا بد کاری سمجھا جائے گا۔مگر اس قسم کے فتووں کے باوجود کثرت سے لوگ آئے جو علامت ہے اس بات کی کہ جو فتنہ اور شورش