تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 172
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ شاید چالیس مردوں سے زیادہ نہیں کیونکہ ساری مردم شماری عورتوں اور بچوں سمیت جو مجھے بتائی گئی وہ دو سو کے قریب ہے۔پس مرد تیس پینتیس یا زیادہ سے زیادہ پچاس ہوں گے اور چالیس ہزار کی آبادی والے شہر میں یہ تعداد بہت ہی قلیل ہے پھر سوائے دو تین کے باقی لوگ غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر بار جودان تمام حالات کے لوگوں نے اس مخالفت کی پروا نہیں کی جو مخالفین کی طرف سے کی گئی تھی۔عام طور پر جلسوں کی حاضری تین ہزار سے چھ ہزار تک سمجھی جاتی تھی۔اور مجھے قادیان سے باہر کسی جگہ اس بات کے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کھلے میدان میں اس طرح وسعت سے آدمی پھیلے ہوئے ہوں جیسا کہ قادیان میں سالانہ جلسہ کے موقعہ پر پھیلے ہوتے ہیں۔گیلریوں کو چھوڑ کر جو زائد ہوتی ہیں۔یہاں جس قدر جلسہ گاہ کا حصہ ہوتا ہے اس کے قریب قریب ہی لائل پور کی جلسہ گاہ تھی اور پھر تمام آدمیوں سے بھری ہوئی تھی۔مگر سوال یہ نہیں کہ آدمیوں سے جلسہ گاہ بھری ہوئی تھی بلکہ قابل غور امر یہ ہے کہ سخت مخالفت کے باوجود یہاں تک کہ مخالف علماء کی طرف سے یہ فتوے دیئے جانے کے باوجود کہ احمدیوں سے ملنے پر نکاح ٹوٹ جائے گا ہر طبقہ کے لوگ آئے۔معززین میں سے بھی اور عوام الناس میں سے بھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف جو کوششیں ہمارے خلاف کر رہے ہیں اگر ایک طرف ان سے ہمارے لئے بعض مشکلات پیدا ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ان کی مخالفت ہمارے تبلیغی راستے میں روک نہیں ہو رہی بلکہ لوگوں کی توجہ پھرانے کا باعث بن رہی ہے۔مجھے ایک شخص نے لائل پور میں بیعت کرتے وقت عجیب واقعہ سنایا۔وہاں قریباً ایک سو چالیس افراد نے بیعت کی ہے اور جو بیعت کرتا۔میں اس سے متفرق حالات بھی دریافت کرتا۔تا مجھے معلوم ہو کہ یہ کس ضلع کا ہے اور اب آئندہ ہماری تبلیغی سرگرمیاں کسی ضلع میں زیادہ نمایاں تغیر پیدا کر سکیں گی اور کس جگہ کی جماعتیں اللہ تعالٰی کے فضل سے ترقی کریں گی ضمنی طور پر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ضلع دار بیعت کے لحاظ سے ضلع شیخو پورہ کے بیعت کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اس کے بعد لائل پور اور پھر سرگودھا، غیرہ اضلاع کے لوگوں نے بیعت کی۔ایک شخص نے جو سرگودھا کے ضلع کے تھے اور لائل پور میں کسی ای اے سی کے لڑکوں کو پڑھاتے تھے۔جب انہوں نے بیعت کی تو میں نے ان سے پوچھا۔آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں ضلع سرگودھا کا ہوں پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو سلسلہ احمدیہ کی طرف کس طرح توجہ ہوئی ؟ انہوں نے کہا کہ میں لائل پور میں نو کر تھا یا کہا کہ میں نوکر ہوں۔اسی دوران میں مجھے ایک اشتہار ملا۔جو یہاں کی کسی مسجد کے امام کی طرف سے شائع ہوا تھا۔اس میں جماعت احمدیہ کے خلاف بہت سی باتیں لکھی تھیں وہ کہنے لگے مجھے اشتہار پڑھ کر سخت غصہ آیا کہ ایک طرف تو یہ احمدی اپنی نیکی اور اسلامی ہمدردی کا دعوی کرتے