تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 160
تاریخ احمدیت جلد ۹ 14۔پس اس شک کے عرصہ میں دوسری اقوام نے خاص ترقی کرلی اور مسلمان پیچھے رہ گئے۔تعلیم میں بھی سرکاری ملازمتوں میں بھی اور سیاسی میدان میں بھی۔اب جبکہ وہ شکوک دور ہو چکے ہیں۔اور دونوں قومیں جن پر دنیا کے آئندہ امن کا انحصار ہے۔ایک دوسرے کی طرف صلح اور محبت کا ہاتھ بڑھا رہی ہیں اس امر کی خواہش بے جانہ ہو گی کہ گزشتہ کو تاہی کو دور کرنے کے لئے صحیح اور موثر قدم اٹھایا جائے۔وفد نے مزید کیا۔سرحد جو ہمیشہ ہندوستان کے دروازہ پر کندھا دیئے کھڑا رہا ہے۔اسلامی بنگال جو مقدور بھر ٹیررازم کا مقابلہ کر رہا ہے۔اسلامی پنجاب جو برطانوی مشکلات کے وقت اپنے جگر گوشوں کو برطانیہ کی خدمت کے لئے نکال کر پھینکتا رہا ہے اور وہ دوسرے صوبوں کے مسلمان جو تعلیم یافتہ منتظم اور آگے نکلی ہوئی قوموں کے درمیان پراگندہ طور پر پڑے ہوئے ہیں اس وقت برطانوی انصاف ہی کے نہیں بلکہ اس کی ہمدردی کے خواہشمند اور مستحق ہیں۔جناب اور جناب کی حکومت نے ان کے لئے بہت کچھ کیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے اور ہم یہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا آئندہ سیاسی نظام میں اور ان کی اقتصادی حالت کا حکومت کے ماتحت سرکاری ملازمتوں میں اور نئی مالی تجاویز کے اجراء کے وقت خاص خیال رکھا جائے۔یہ وفد ۲۲ ممبروں پر مشتمل تھا جن کے نام یہ ہیں۔(۱) لیفٹیننٹ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب (۲) چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بی اے۔ایل ایل بی بیرسٹرایٹ لاء لاہور - (۳) کرنل اوصاف علی خان صاحب سہی۔آئی ای مالیر کوٹلہ۔(۴) سردار بہادر کیپٹن غلام محمد خان صاحب دوالمیال ضلع جہلم - (۵) صوبیدار فتح محمد خان صاحب دوالمیال ضلع جہلم - (۲) لیفٹیننٹ تاج محمد خان صاحب نوشہرہ ضلع پشاور - (۷) خان بهادر شیخ محمد حسین صاحب ریٹائرڈ سینٹر سب حج علی گڑھ - (۸) خان بہادر چوہدری نعمت اللہ خان صاحب آنریری مجسٹریٹ مدار ضلع جالندھر - (۹) حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندر آباد - حیدر آباد دکن - (۱۰) حکیم ابو طاہر محمود احمد صاحب رئیس کلکتہ - (11) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی (۱۲) صاجزادہ محمد طیب صاحب بنوں۔(۱۳) قاضی محمد شفیق صاحب ایم۔اے ایل ایل بی وکیل چار سده پشاور - (۱۴) سید ارتضی علی صاحب تاجر لکھنو - (۱۵) بابو اعجاز حسین صاحب دہلی - (۱۶) میاں محمد ابراہیم صاحب تاجر چرم کان پور - (۱۷) حضرت مولوی عبد الماجد صاحب پروفیسر جوبلی کالج بھاگلپور - (۱۸) ملک عبد الرحمن صاحب قصور (۱۹) حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ناظر اعلی - (۲۰) حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظر امور عامه - (۲۱) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوة و