تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 137 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 137

تاریخ احمدیت جلد ۲ بٹاویہ میں تشریف لائیں تمام اخراجات کے ہم ذمہ دار ہوں گے جیسا کہ اب انجمن حمایت اسلام نے اس کا خرچ برداشت کیا۔چنانچہ طے پایا کہ دوسرا منا ظہرہ ماہ ستمبر میں کیا جائے۔باہمی تصفیہ کے مطابق بنادیہ میں ایک اور عظیم الشان مناظرہ ہوا جس میں احمدیت کو ایسی نمایاں کامیابی ہوئی کہ بعض غیر احمدی مقتدر لیڈروں اور مشہور ایڈیٹروں نے بر ملا اس کا اقرار کیا۔چنانچہ ایک غیر احمدی لیڈر نے مناظرہ کے اختتام پر مندرجہ ذیل اعلان کیا۔میں ہر دو مناظروں میں موجود رہا ہوں اور فریقین کے دلائل کا موازنہ کر کے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے مناظرین کے پاس نہ تو وہ دلائل ہیں جو صحیح معنوں میں احمدیوں کے دلائل کا جواب ہوں۔اور نہ وہ کشش اور جذب ہے جس سے احمد کی مناظر پبلک کے قلوب کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ان کے دلائل عقل انسانی کو اپنی طرف مائل کرتے اور انسانی فطرت کی گہرائیوں تک کو اپیل کرتے ہیں۔اور اگر دو تین مناظرے اور ہوئے تو مجھے خطرہ ہے کہ ان جزائر کا ایک معتد بہ حصہ احمدیت کا حلقہ بگوش ہو جائے گا۔پس میری رائے میں ہمیں چاہئے کہ ہم آئندہ کسی احمدی سے مناظرہ نہ کریں اور نہ علیحدگی میں ان سے تبادلہ خیالات کریں کیونکہ ہر دو صورتوں میں ہمارا ہی نقصان ہے۔روپیہ ہمارا خرچ ہوتا ہے وقت ہمارا خرچ ہو تا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج فلاں جگہ دس احمد ی ہو گئے آج فلاں جگہ ہیں احمدی بن گئے "۔اس مناظرہ میں بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی رحمت علی صاحب اور مولوی ابو بکر ایوب صاحب سماٹری پیش ہوئے۔مولوی رحمت علی صاحب نے " وفات مسیح پر سیر کن بحث کی چنانچہ جاوا کے ایک مشہور اور کہنہ مشق ایڈیٹر نے لکھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدی مناظر نے متعدد آیات قرآنیہ اور احادیث سے نہایت ہی موثر اور دلکش پیرائے میں یہ امرپایہ ثبوت تک پہنچادیا کہ واقعی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام وفات پا گئے۔ہمارے مناظر نے اپنی طرف سے حیات مسیح کے اثبات میں پورا زور لگایا مگر حقیقت یہ ہے کہ احمدی مناظر کے دلائل سننے کے بعد گو ہمارا اعتقاد تو اب بھی یہی ہے کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں لیکن عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی کہ کس طرح ایک انسان دو ہزار سال بے کھائے پیئے آسمان پر زندہ رہ سکتا ہے "۔مولوی ابو بکر ایوب صاحب کی قابلیت اور وسعت معلومات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوسرے ہی دن کئی اخباروں نے کالم کے کالم مولانا کی تعریف اور مناظرہ کی سرگزشت میں صرف کئے چنانچہ مذکورہ ایڈیٹر نے لکھا۔