تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 138
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ IPA " آج کی رات پہلے تجربہ کی بناء پر میں وقت مقررہ سے بہت پہلے ہال میں پہنچ گیا۔مگر یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہانہ رہی کہ احمدیوں کی طرف سے ایک گورے رنگ کا نوجوان (جس کے متعلق مشہور ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کا سند یافتہ ہے) کھڑا ہوا۔نہایت سلاست اور روانی سے ایک ایسے انوکھے اور مشکل مضمون پر تقریر کر رہا ہے کہ جو ہم نے زندگی بھر کبھی نہیں سنا۔اور باوجود اس بات کے کہ کثیر مجمع اس کے خیالات کا مخالف ہے مگر وہ ایسے موثر اور دلنشین پیرائے میں کلام کر رہا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے گویا لوگوں کے سروں پر جانور بیٹھے ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ ذرا ہلے تو اڑ جائیں گے۔بلکہ بعض کو تو یہاں تک کہتے سنا کہ اس قسم کی تقریر ان جزائر میں پہلے کبھی نہیں سنی گئی"۔مختصر یہ کہ اس مناظرہ میں بھی حق و صداقت کو بے نظیر کامیابی حاصل ہوئی۔بالآخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان مناظروں میں مولانا محمد صادق صاحب مبلغ سماٹر ابھی شامل تھے اور انہوں نے مباحثات کی تیاری اور حوالہ جات کی فراہمی میں ہر ممکن اعانت فرمائی۔مصر و فلسطین مشن : ان دنوں اس مشن کے انچارج مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری تھے جنہوں نے ممالک عرب میں تبلیغ اسلام و احمدیت کی کوششیں اس سال پہلے سے زیادہ تیز کر دیں اور مناظروں اور مباحثوں کے ذریعہ سے خاص طور پر احمدیت کا سکہ بٹھا دیا۔سب سے نمایاں مناظرہ امریکن مشن قاہرہ کے انچارج ڈاکٹر فیلبس سے ہوا۔یہ مناظرہ تین مضامین پر تھا اور اللہ تعالیٰ نے تینوں میں ہی اسلام کو فتح بخشی۔تیسرے مضمون میں ڈاکٹر فیلیس اپنے ساتھ دو اور پادری (پادری کامل منصور اور پادری ایلڈر) بھی لائے تھے مگر حق و صداقت کے سامنے دم مارنے کی کسے مجال تھی۔اختتام پر ایک از ہری عالم نے کہا بخدا اگر تمام علماء از ہر مل کر بھی ایسا مناظرہ کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔پادری کامل منصور نے جاتے وقت اقرار کیا کہ احمدی مناظر نے مسیحیت سے متعلق ہم سے زیادہ مطالعہ کیا ہے۔بلکہ دوسرے مناظرے کے بعد خود ڈاکٹر فیلبس نے اعتراف کیا کہ " قد فشلت اليوم" میں آج ہار گیا۔یه شهره آفاق مناظرہ "مباحثہ مصر" کے نام سے اردو اور انگریزی میں شائع شدہ ہے۔فلسطین کی پہلی مسجد "سید نا محمود " جس کا بنیادی پتھر ۳ / اپریل ۱۹۳۱ء کو علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے رکھا تھا۔۳/ دسمبر ۱۹۳۳ء کو اس کا افتتاح مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے فرمایا - |- امریکہ مشن جاوا اور مصرو فلسطین کے علاوہ امریکہ میں بھی مناظرات کا سلسلہ جاری رہا۔یہاں ۱۹۳۳ء کا مشہور مناظرہ گراؤنڈر پیرس میں ہوا۔جس میں مبلغ اسلام صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی نے دو روز تک ایک پادری سے بحث کر کے اسلام کی حقانیت اور سچائی کا ڈنکا بجا دیا۔چنانچہ نیو یارک