تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 124
تاریخ احمد بیت - جلد ۱۲۴ حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر برہمن بڑیہ سے واپس آتے ہوئے کلکتہ سے قادیان تک کی تمام بڑی جماعتوں کا دورہ بھی فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة سرزمین کابل میں ایک نہایت اہم نشان کا ظہور والسلام کو ۳/ مئی ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا۔"آہ نادر شاہ کہاں گیا۔یہ عظیم الشان پیشگوئی (اٹھائیس برس بعد ) اس سال ۸/ نومبر ۱۹۳۳ء کو لفظ لفظاً پوری ہو گئی۔جبکہ والی افغانستان نادر شاہ دن کے تین بجے ایک طالب علم کے ہاتھوں نہایت بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔اس دردناک حادثہ قتل کی اطلاع پہنچنے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے اظہار افسوس اور دلی ہمدردی کا تار جلالت باب محمد ظاہر شاہ شاہ کابل کو دیا گیا۔جس میں یہ امید بھی ظاہر کی کہ شاہ معظم اپنے والد ذی شان کے نیک کام کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔TAT حکومت افغانستان کی طرف سے اس کے جواب میں مندرجہ ذیل مکتوب موصول ہوا۔ہر میجسٹی شاہ افغانستان آپ کے ان دلی جذبات ہمدردی کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جن کا اظہار آپ نے اپنی طرف سے نیز اپنی جماعت کی طرف سے اعلیٰ حضرت مرحوم کی درد ناک وفات پر TAF فرمایا ہے"۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس پیغام تعزیت کے علاوہ "سرزمین کابل میں ایک تازہ نشان کا ظہور " کے عنوان سے ایک مفصل مضمون بھی تحریر فرمایا۔جو الفضل (۲۳/ نومبر ۱۹۳۳ء) کے بعد اردو اور سندھی میں پمفلٹ کی صورت میں بکثرت شائع کیا گیا۔اس مضمون میں حضور نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح نادر خاں انتہائی کس مپرسی اور بے سرو سامانی اور بالکل مخالف حالات میں مسند حکومت پر بیٹھے پھر الہام کے مطابق نادر خاں سے نادر شاہ بنے اور پھر اچانک حادثہ سے وفات پا گئے اس ضمن میں اس اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اس پیشگوئی سے یہ بات معلوم ہوتی تھی کہ جس وقت نادر شاہ صاحب کی وفات ہو گی۔اس وقت ملک کو ان کی اشد ضرورت ہو گی۔واقعات سے یہ امر بھی ثابت ہوتا ہے چنانچہ بڑا ثبوت اس امر کا یہ ہے کہ شاہ موصوف کی وفات سے چند دن پہلے ڈاکٹر محمد اقبال صاحب افغانستان سے واپس آئے تو انہوں نے اخبارات میں یہ امر شائع کرایا کہ اگر دس سال بھی نادر شاہ صاحب کو اور مل گئے تو افغانستان کی حالت درست ہو جائے گی اور وہ ترقی کی چوٹی پر پہنچ جائے گا اس اعلان کے دوسرے دن وہ مارے گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب واقف لوگ اس امر کو محسوس کرتے تھے کہ نادر شاہ صاحب کی زندگی کی