تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 123 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 123

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ وو ۱۲۳ طرح حضرت والدہ صاحبہ ام المومنین کو بھی دعا کے واسطے لکھتے رہو۔گاہے گاہے سلسلہ کے سرے بزرگوں کو بھی دعا کے لئے لکھتے رہو۔ڈاک کے خرچ کی کفایت اسی رنگ میں ہو سکتی ہے کہ ایک ہی لفافہ میں کئی لفافے بند کر کے بھیجوا دیے جائیں " - 20 صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ۱۶/ ستمبر ۱۹۳۳ء کی شام کو انگلستان پہنچے۔آپ کے قیام لنڈن سے چند ماہ بعد ۱۵/ نومبر ۱۹۳۳ء کو صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب (ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب بھی حصول تعلیم کے لئے ولایت تشریف لے گئے۔حضرت مسیح موعود کی نظموں کا ریکارڈ ستمبر ۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے کی دی گراموفون کمپنی لمیٹڈ بمبئی" نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض نظمیں نہایت نازیبا طریقہ پر گراموفون میں ریکارڈ کیں۔اور وہ کلام جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کرنے کے لئے لکھا گیا تھا۔ڈھولک اور باجہ کے ساتھ گاکر کھیل کے رنگ میں پیش کیا گیا۔221 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۵/ ستمبر ۱۹۳۳ء کے خطبہ جمعہ میں اس حرکت پر سخت نقد کیا ازاں بعد احمدی جماعتوں کی طرف سے بھی صدائے احتجاج بلند کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ کمپنی نے خود ہی یہ ریکارڈ تلف کرا دیے۔۲۹ - ۳۰/ ستمبرد یکم اکتوبر ۱۹۳۳ء کو بنگال احمد یہ کانفرنس کا آل بنگال احمد یہ کانفرنس سترھواں سالانہ جلسہ منقعد ہوا۔جس کی صدارت کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب قادیان سے تشریف لے گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس موقعہ پر احمدیان بنگال کے نام ایک مختصر مگر جوش انگیز اور ولولہ خیز پیغام بھجوایا جس میں خاص طور پر یدارشاد فرمایا کہ - " آپ لوگ یاد رکھیں کہ ہر خلیفہ کا نہ ہی فرض ہو گا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق امامت کو خلافت کے نقطہ پر اور تفصیلی انتظام کو صدرانجمن احمدیہ کے نقطہ پر قائم رکھے اور کسی ایسے خیال کو جو اس کے خلاف ہو چلنے نہ دے ہر قربانی جو خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اس مقصد کے حصول کے لئے معمولی سمجھی جائے گی۔پس ہر ایک بہی خواہ سلسلہ کو اور ہر اس شخص کو جو روحانی موت اپنے لئے پسند نہیں کرتا میں نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ایسا کوئی خیال اس کے دل میں ہے تو اسے اپنے دل سے نکال دے ورنہ یہ اس کی اپنے ساتھ بھی غداری ہوگی۔اور اپنی قوم کے ساتھ بھی غداری ہوگی۔|*A+