تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 96
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 94 کھلم کھلا جماعت احمدیہ کی مخالفت شروع کر دی۔ہندوؤں کے جذبات کی تلخی کتنی شدت اختیار کر چکی تھی اس کا نمونہ اخبار "آرید گزٹ " ۷ / جنوری ۱۹۳۳ء کے مندرجہ ذیل الفاظ سے ملتا ہے۔ان کے (احمدیوں کے۔ناقل) زیر نظر دو مقصد ہیں اول ہندوؤں کو نقصان پہنچانا۔احمدی جماعت ایک تبلیغی جماعت ہے اور مسلمانوں میں جو تبلیغی بیداری پائی جاتی ہے وہ موجودہ زمانہ میں بہت حد تک احمدیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے احمدی جماعت ہندوؤں کی بہت سخت دشمن ہے اور ہر ممکن طریقہ سے ہندو قوم کو نقصان پہنچانے میں کوشاں رہتی ہے اور اس طریقہ سے بھی وہ ہندوؤں کو نقصان پہنچانے میں کامیابی کی امید رکھتے ہیں۔دوسرا مقصد ان کے زیر نظریہ ہے کہ احمدیوں کی تعداد بڑھائی جائے اس وقت ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے دوسرے مسلمان ان کے بہت مخالف ہیں۔اور ان میں نئے شامل ہونے والے بہت کم ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اچھوتوں کو احمدی بنا کر مردم شماری میں ان کی تعداد بڑھائی جائے اور پنجاب میں سیاسی اقتدار حاصل کیا جائے اس وقت باوجو د تھوڑے ہونے کے احمدی لوگ میدان سیاست میں کافی اثر رکھتے ہیں جس کی بڑی وجہ ان کی تنظیم اور اپنے خلیفہ کی اطاعت کرتا ہے کو نسل کے تمام مسلمان ممبران ان کے دوٹوں کی ضرورت محسوس کر کے ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے اور جب اچھوتوں کو ساتھ ملا کر ان کی تعداد میں کافی اضافہ ہو جائے گا۔تو آسانی سے خیال کیا جا سکتا ہے کہ ان کا سیاسی اثر کس قدر زیادہ ہو جائے گا۔بلکہ مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ اگر جداگانہ انتخاب قائم رہا تو زمانہ مستقبل میں پنجاب پر دراصل خلیفہ قادیان کی حکومت ہو گی"۔۲۳۰ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی سفر ولایت سے واپسی چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب تیسری گول میز کانفرنس میں مسلمانان ہند کی سیاسی نیابت کے اہم فرائض ادا کرنے کے بعد ۱۹/ جنوری ۱۹۳۳ء کو لنڈن سے وارد ہھتی ہوئے۔بندرگاہ پر احمدیوں کے علاوہ بعض مشہور مسلمان شخصیتوں نے بھی آپ کا پر تپاک استقبال کیا۔بوہرہ جماعت کے پیشوا لملا سیف الدین طاہر صاحب سے ملاقات کرنے کے بعد آپ فرنٹیر میل میں دہلی روانہ ہو گئے۔دہلی میں ایک دن قیام فرمانے کے بعد ۲۲/ جنوری ۱۹۳۳ء کو ۱۲ بجے کی گاڑی سے سیدھے قادیان تشریف لائے۔اسٹیشن پر خیر مقدم کرنے والوں کا ایک بہت بڑا ہجوم موجود تھا۔خود حضرت خلیفہ ثانی بھی رونق افروز تھے۔آپ معانقہ و مصافحہ کے بعد حضور کی معیت میں بذریعہ موٹر مسجد مبارک آئے اور نفل پڑھنے کے بعد بہشتی مقبرہ میں دعا کے لئے تشریف لے گئے۔واپسی پر حضرت امیر المومنین کے ہاں کھانا تناول فرمایا اور تین بجے کی گاڑی میں لاہور کی