تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 95 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 95

تاریخ احمدیت - جلد 4 پہلا باب (فصل ششم) ۹۵ خلافت ثانیہ کا بیسواں سال (جنوری ۱۹۳۳ء تاد سمبر ۱۹۳۳ ء بمطابق رمضان المبارک ۱۳۵۱ھ تار مضان المبارک ۱۳۵۲ھ ) ۱۹۳۳ء کا آغاز حضرت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہوائی جہاز میں پہلی بار پرواز خلیفہ المسی الثانی اور حضور کے برادران کی ہوائی جہاز میں پہلی بار پرواز کے واقعہ سے ہوتا ہے۔ہندوستان کے مشہور ہوا باز مسٹر چاولہ ۳۰ دسمبر ۱۹۳۲ء کو ے بجے شام کے قریب اپنے ہوائی جہاز پر لاہور سے آئے اور قادیان کے اسٹیشن کے پاس کھلے میدان میں اترے اور حضور سے جہاز دیکھنے کی درخواست کی چنانچہ حضور یکم جنوری ۱۹۳۳ء کو گیارہ بجے کے قریب تشریف لے گئے۔قادیان میں ہوائی جہاز کے آنے کا یہ پہلا موقعہ تھا۔اس لئے قادیان اور اس کے مضافات سے بکثرت لوگ جمع تھے۔جہاز نے تین دفعہ پرواز کی۔پہلی بار حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اور سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ سوار ہوئے اور دوسری دفعہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور سیدہ امتہ القیوم صاحبہ - III تیسری بار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب - جهاز اللہ اکبر کے نعروں میں زمین سے بلند ہوا اور آدھ گھنٹہ کے قریب چار ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے اور دریائے بیاس تک چکر لگانے کے بعد زمین پر اترا۔یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہو گا کہ کئی اصحاب کو ہوائی جہاز کے سفر سے تشویش بھی ہوئی اور بعض مخلصین نے تو حضور کی خدمت میں اس کا اظہار بھی کر دیا۔مگر حضور نے ان کو تسلی دی لیکن جب جہاز کی تیسری اڑان کے دوران پہلی دو پروازوں کی نسبت زیادہ وقت گزرنے لگا اور جہاز کہیں دکھائی نہ دیا تو گھبراہٹ اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی اس اثناء میں جو نہی جہاز نظر آیا لوگوں نے فرط مسرت سے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔اچھوتوں سے متعلق جماعت احمدیہ کی جماعت احمدیہ نے اچھوتوں میں تبلیغ اسلام کی جو مہم جاری کر رکھی تھی اس نے ہندوؤں کو بہت مخلصانہ مساعی اور ہندوؤں کی مخالفت بر امر فروخته کر رکھا تھا اور اب انہوں نے