تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 97 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 97

تاریخ احمدیت - جلد ۷ 96 طرف روانہ ہو گئے۔aa لاہور اسٹیشن پر بھی مسلمانان پنجاب کے نہایت معزز اور سرکردہ اصحاب و عماد استقبال کے لئے موجود تھے۔چوہدری صاحب کی واپسی اور استقبال کے سلسلہ میں ہندو اخبار " ملاپ " (لاہور) نے ۲۵-۲۶/ جنوری ۱۹۳۳ء کے پرچوں میں مندرجہ ذیل دو نوٹ شائع کئے۔پہلا نوٹ ادارہ "ملاپ" کے ایک رکن کا تھا اور دو سمرا اس کے مالک لالہ خوشحال چند صاحب کا۔پہلا نوٹ: ” پلیٹ فارم 9 نمبر پر ایک اور ہی نقشہ نظر آیا۔جدھر دیکھو ترکی ٹوپیوں والے ہار ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں۔اتنے میں ایک سانولی صورت لمبا چوڑا شخص ایک لبادہ پہنے نظر آیا۔صحیح طور پر لکھا جائے تو یہ کہنا ہو گا کہ شوخ رنگ کا ایک لبادہ چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔نزدیک پہنچے تو دیکھا کہ پنجاب کو نسل کے جلیل القدر صدر چودھری سر شهاب الدین چلے آرہے ہیں۔چند منٹ کے بعد فاصلہ پر ایک اور صاحب نظر پڑے پنی سمجھا شاہ ایڈورڈ ہفتم نے دوبارہ جنم لے لیا ہے اور لیا بھی غلام آباد ہندوستان میں لیکن یہاں بھی دھوکا ہوا۔لاہو رہائی کورٹ کے جج سر عبد القادر تھے۔اتنے میں نہایت اعلیٰ قسم کا تمبا کو سلگنے کی خوشبو آئی۔منہ پھیر کر دیکھا تو سامنے ایک وجیہہ جو ان چلے آرہے تھے۔سر پر زر کار کلاہ جس پر ایک سفید ململ کی پگڑی لیکن اس پر ایک امتیازی طرہ عنفوان جوانی میں متانت پیدا کر رہا تھا۔پاؤں میں پیٹینٹ لیدر کی بڑھیا پمپ شو اور بدن پر ایک چسٹر جس کے بٹن کھلے ہوئے تھے سمجھا کوئی بڑے رئیس زادے ہیں لیکن ایک منٹ کے اندر اندر ہی نو وارد کے ارد گرد ایک ہجوم ہو گیا۔آپ سب سے مصافحہ کرتے جاتے اور مسکراتے جاتے تھے قریب پہنچ کر دیکھا تو معلوم ہوا نو دارد حضرت سردار سکندرحیات خاں ریونیو ممبر گورنمنٹ پنجاب ہیں وہی سکندر حیات خان صاحب جو حال ہی میں قائم مقام گورنر رہ چکے ہیں۔میں حیران تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے سردار سکندر حیات اور یہ سادگی اور یہ بے تکلفی۔ہر کہ دمہ سے اس طرح مصافحہ کر رہے ہیں گویا ساری عمر کسی بڑے عمدہ کی جھلک نہیں دیکھی چہ جائیکہ گورنری کی گدی پر براجمان رہ چکے ہیں۔مجھے معاً اپنی قوم کے بڑے آدمیوں کا خیال آگیا۔ان سے ملنا کتنا دشوار ہے اور پھر مل کر طبیعت پر کتنا بوجھ معلوم ہوتا ہے۔کیا ہندو بھی کبھی اس اخلاص کا نمونہ پیش کر سکیں گے۔جو مسلمانوں کی ایک قومی خصوصیت ہے۔یہ سب صاحبان چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے استقبال کے لئے جمع ہوئے تھے۔چوہدری صاحب لنڈن سے آرہے تھے مگر گاڑی گورداسپور سے آرہی تھی۔حیرت ہوئی کہ آخر گورداسپور کی گاڑی میں آنے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوا کہ آپ پنجاب میں قدم رکھنے کے بعد اپنے خویش و اقارب کو