تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 94
تاریخ احمد بیعت - جلد ۲ ۹۴ کی تقریریں ہو ئیں اس کے بعد ملک عبدالرحمن صاحب خادم کھڑے ہوئے تو فریق ثانی نماز عصر کا بہانہ کر کے چلا گیا۔اس مناظرہ کے نتیجہ میں تین اشخاص سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔- مباحثہ بمبو ( تحصیل شکر گڑھ) ۳۱/ جولائی کو جماعت احمدیہ اور اہلحدیث کا مناظرہ ہوا۔احمدی مناظر حافظ مبارک احمد صاحب اور مناظر اہلحدیث حافظ احمد دین صاحب گکھڑ دی اور عبدالرحیم شاہ صاحب وغیرہ تھے۔پبلک نے اقرار کیا کہ احمدی مبلغ نے اپنے دلائل نہایت سنجیدگی سے بیان کئے ہیں - mal - مباحثہ بھیرہ (ضلع شاہ پور) جماعت احمدیہ اور بریلویوں کے درمیان ۱۵/۱۶ ستمبر ۱۹۳۲ء کو تین مناظرے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے پہلے اور دوسرے مناظرہ میں مولوی محمد سلیم صاحب اور تیسرے میں ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے حصہ لیا۔غیر احمدی مناظر مولوی محمد حسین صاحب کولو تارڑدی تھے۔تیسرا مناظرہ بڑے معرکے کا تھا۔جس کے نتیجہ میں بھیرہ اور -10 اس کے مضافات میں ایک ہلچل سی مچ گئی اور پانچ نفوس سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔مباحثہ گوبند پوره: ۲۰-۲۱/ نومبر کو مولوی محمد سلیم صاحب نے یہاں غیر احمد کی عالم مولوی محمد ادریس صاحب سے مناظرہ کیا۔ہندو پبلک نے خصوصیت سے جماعت احمدیہ کے دلائل کی 2 معقولیت تسلیم کی۔مباحثہ جہلم جہلم کا یہ مشہور مباحثہ الوہیت مسیح اور صداقت مسیح موعود کے موضوع پر ۱۲ سے ۱۵/ دسمبر تک جاری رہا۔احمدی مناظر مولانا جلال الدین صاحب شمس تھے اور عیسائی مناظر پادری عبدالحق صاحب مناظرہ جہلم کے گرجا گھر میں ہوا۔فریقین کے کل ۲۲ پرچے ہوئے یہ مناظرہ شائع شدہ ہے جس کے پڑھنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے احمدیت کو عیسائیت پر کتنی بین فتح دی۔اس سال سینکڑوں HD احباب حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔بیعت کرنے والوں میں نو مبایعین مرزا محمد اسحق بیگ صاحب آف پٹی بھی تھے جو مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کے نواسے اور محمدی بیگم صاحبہ کے بیٹے ہیں۔مرزا صاحب موصوف نے انہیں دنوں قبول احمدیت پر ایک مفصل بیان HAI میں زور دار الفاظ سے اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی متعلقہ مرزا احمد بیگ صاحب روز روشن کی طرح پوری ہو چکی ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں یہ وہی مسیح موعود ہے جن کی نسبت نبی کریم ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی۔