تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 90 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 90

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 9۔مبلغ امریکہ صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی نے ایک کالج میں ہندوستانی سیاسیات پر تقریر کی اور مسلمانوں کے حقوق و مطالبات کی تشریح کی۔اس کے بعد نیو یارک اور اس کے نواح میں انہوں نے بذریعہ لیکچر یہ سلسلہ جاری رکھا۔۵/ جون کو صوفی صاحب کی شکاگو کی اعلیٰ سوسائٹی PEOPLE COMMNITY CHURCH میں تقریر ہوئی۔خاتمہ پر صدر جلسہ نے کہا۔میری تمام زندگی میں جو سب سے زیادہ تعجب انگیز معلومات کا اضافہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس تقریر سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسلام ایسا خوبصورت مذہب ہے "۔۱۳ جون کو ڈی ٹرائٹ میں ہے"۔FELLOW SIIIP OF FAITH کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں آپ کی تقریر ہوئی۔ہندوستانی۔عرب اور ترک مسلمانوں نے کہا کہ آپ نے آج اسلام کی لاج رکھ لی ہے۔اس سال سٹونین ہال نیگس ٹاؤن کلیولینڈ اور ہوم سٹید میں نئی جماعتیں قائم ہو ئیں۔ایران مشن مرزا برکت علی صاحب آنریری مبلغ نے دار خونین کے ایک پرائیویٹ مکان میں جس کا بہت چرچا ہوا۔جہاں ایرانی اور عرب اور ہندوستانی موجود تھے وفات مسیح پر چار گھنٹے تک تقریر کی۔|- |-} جاوا مشن مولوی رحمت علی صاحب نے جادا کے مشہور لیڈر چکرونو سے ملاقات کی اور پیغام حق پہنچایا اور انگریزی لٹریچر بھی پیش کیا۔سماٹرا مشن مولوی محمد صادق صاحب کو پتہ راجہ میں تشریف لے گئے مگر ان کو پولیس نے لیکچر دینے اور مباحثہ کرنے سے روک دیا۔شہر سنگی میں لوگوں نے سخت مخالفت کی اور انہیں ۲۰۵ پولیس کے حکم سے شہر چھوڑنا پڑا۔ڈاکٹر محمد شاہ نواز خان صاحب وغیرہ کی کوشش سے ۱۲ مئی ۱۹۳۲ء کو انجمن احمد یہ زنجبار کی بنیاد رکھی گئی۔احمدی وفد نے ۷ / جون ۱۹۳۲ء کو ریذیڈنٹ زنجبار سے اور 11/ جون کو زنجبار سلطان المعظم خلیفہ بن حار وب سلطان زنجبار سے ملاقات کی اور سلسلہ احمدیہ سے متعارف کیا۔1 ۱۹۳۲ ء کی نئی مطبوعات اس سال مندرجہ ذیل اہم کتب شائع ہوئیں اور سلسلہ کے لٹریچر میں نہایت قیمتی اضافہ کا موجب بنیں۔" -1 رہنمائے تبلیغ" (مولفہ سید طفیل محمد شاہ صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمد یہ کھیوہ سالار والا ضلع لائلپور) تقریباً ساڑھے تین سو صفحات کی یہ کتاب سوال وجواب کی طرز پر لکھی گئی تھی اور بہتوں کی ہدایت کا موجب بنی۔- مقدمہ بہاولپور: حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس " کا وہ بیان جو آپ نے ایک احمدی