تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 19 مقرر کئے گئے۔آپ کے فرائض مختصر آیہ تھے۔۱۹۲ (1) مہمانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام (۲) درس کا انتظام (۳) غیر معروف مہمانوں کے حالات کا پتہ لگانا اور مشتبہ لوگوں کی نگرانی کرنا (۴) نئے آنے والے مہاجرین کو ہجرت کی غرض وغایت سے آگاہ کرنا۔(۵) مقامی عہدیداروں کے توسط سے مقامی احمدیوں کی عام تربیت کی نگرانی کرنا۔حضرت مولوی صاحب ایک لمبے عرصہ تک واعظ مقامی کے فرائض نہایت ذمہ داری اور اخلاص سے سرانجام دیتے رہے جس کا تفصیلی ذکر صد را انجمن احمد پہ کی رپورٹوں سے ملتا ہے۔بیرونی مشنوں کے بعض ضروری واقعات فلسطین مشن: مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے مارچ ۱۹۳۲ء سے ایک سہ ماہی رسالہ " البشارۃ اسلامیہ " جاری کیا۔اخبار "الفلسطين" " الاقدام " اور "الصراط المستقیم" HD " نے اس کے اجراء پر عمدہ تبصرے کئے۔چنانچہ " الصراط المستقیم " (۱۰ / مارچ ۱۹۳۲ء) نے لکھا کہ احمدیہ عقائد نصرانیت پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتے ہیں اور احمدی مسیحیت اور یہودیت پر دوسرے تمام 140 - لوگوں سے اشد ہیں۔مولانا ابو العطاء صاحب کا غیر احمدی عالم شیخ احمد قصاب سے کامیاب مباحثہ ہوا اور وہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی چل دیئے۔علاوہ ازیں بغداد کے مشہور پادری الانستاس الکریلی سے اگست میں تبادلہ خیالات ہوا۔مگر پادری صاحب نے آخر گفتگو سے انکار کر دیا۔گولڈ کوسٹ مشن : نمالے علاقہ میں تبلیغ اسلام سے متعلق مقامی افسروں نے بعض قیود لگادی تھیں اس سال کے شروع میں چیف کمشنر نے یہ پابندیاں اٹھا دیں۔اشانی میں مولوی نذیر احمد صاحب میٹر نے دورہ کیا اور ایک ذی اثر شخص الحاج عیسی اپنے ۵۶ مریدوں سمیت سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔نیا سالینڈ : ۸/ فروری ۱۹۳۲ء کو مسلمانان نیا سالینڈ کا ایک وفد گورنمنٹ ہاؤس زدمبار میں گورنر صاحب کے سامنے پیش ہو ا جس کی قیادت ایک احمدی مسٹر عبدالحکیم جان نے کی۔اور مسلمانوں کے مطالبات پیش کئے۔اس جدوجہد پر انجمن حمایت اسلام زومبار (نیا سالینڈ) نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور لکھا جماعت احمد یہ بھی شکریہ کی مستحق ہے جس کے ایک ممبر نے عین موقعہ پر ہماری راہ نمائی کی اور اپنی آمد سے لے کر اس وقت تک مسلم مفاد کی خاطر کئی ایک بہترین کام کئے۔امریکہ مشن اسی دن جبکہ نیا سالینڈ کا مندرجہ بالا وفد پیش ہوا تھا۔امریکہ میں شام کے وقت