تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 85 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 85

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۸۵ اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے میں نے ڈلہوزی میں ایک رؤیا دیکھا کہ کوئی شخص نہایت گھبرائے ہوئے الفاظ میں کہتا ہے دو ڈورو رو قادیان میں ایک ایسا شخص فوت ہوا ہے جس کے فوت ہونے سے آسمان اور زمین ہل گئے ہیں۔جب میری نظر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ واقعی آسمان ہل رہا ہے اور مکان بھی ہل رہے ہیں۔گویا ایک زلزلہ آیا ہے۔۔۔۔اور اب جبکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ رویا انہی کے متعلق تھی جو پوری ہو گئی۔جب کوئی شخص ایسا فوت ہوتا ہے جو مقبول الہی ہو۔تو اس کی وفات کا زمین و آسمان پر اثر ضرور ہوتا ہے۔۔۔میں تاریخ میں جماعت کے ایک نیک اور اچھے شخص کے نمونہ کو قائم کرنے کے لئے یہ خطبہ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔غرض جہاں میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں ان مخلص اور خدارسیدہ لوگوں کے نام رہ جائیں وہاں میں نوجوان احمدیوں اور نئے احمدی بننے والوں کو بھی توجہ ولاتا ہوں کہ وہ اسی قسم کا اخلاص اور ایمان پیدا کریں اور انہیں اللہ تعالٰی سے ایسا یقین ، معرفت اور تو کل حاصل ہو کہ اللہ تعالی ان سے براہ راست ہم کلام ہو اور وہ اس مقام پر کھڑے ہوں کہ ان کی وفات آسمان اور زمین کو ہلا دینے کا موجب ہو جائے وہ بھی کیا انسان ہے جو دنیا میں آیا اور چند سال رہ کر یوں مرگیا۔جیسے لکھی مرجاتی ہے "۔حضرت مولوی فضل دین صاحب ساکن کھاریاں جو عالم با عمل اور ۳۱۳- اصحاب کبار میں شامل تھے ۱۴ / اکتوبر ۱۹۳۲ء کو رحلت فرما گئے - Wa نانی اماں حضرت سیدہ بیگم صاحبہ المیہ حضرت میر نواب صاحب ( تاریخ وفات ۲۳/۲۴ نومبر ۱۹۳۲ء) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب سول سرجن نے ایک مفصل مضمون میں ان کے حالات زندگی شائع کئے تھے جن میں تحریر فرمایا۔”والدہ صاحبہ کی شادی قریباً ۱۲- ۱۳ سال کی عمر میں حضرت والد صاحب کے ساتھ ہو گئی تھی۔مجھے یاد ہے کہ وہ ہجرت کر کے قادیان ۱۸۹۴ء میں آئی تھیں اور پھر میں رہیں۔مگر اس سے پہلے ہمیشہ وقتاً فوقتاً ہمارے والد صاحب ان کو قادیان اپنے ہمراہ لایا کرتے تھے یا کبھی ان کو چھوڑ جاتے پھر دوسرے پھیرے میں لے جاتے سب سے پہلے وہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد بزرگوار کی زندگی میں آئی تھیں جب میر صاحب نہر پر سب اوور میر تھے اور کئی ماہ قادیان میں ٹھہری تھیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دہلی میں حضرت ام المومنین کے لئے پیغام بھیجا تو میر صاحب کو انہوں نے بھی مشورہ دیا تھا کہ دیگر برادری کے لڑکوں کی نسبت تو غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) ہی اچھا ہے چنانچہ وہ نکاح ظہور میں آگیا"۔IZA