تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 86
تاریخ احمدیت جلد ۲ AY خواجہ کمال الدین صاحب بانی دو کنگ مشن انگلستان ( تاریخ وفات ۲۷/۲۸ دسمبر ۱۹۳۲ء) ان کی وفات کی خبر سالانہ جلسہ ۱۹۳۲ء کے دوران سنی گئی جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنی تقریر میں خواجہ صاحب مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے فرمایا۔اگر چه خواجہ صاحب نے میری بہت مخالفتیں کیں لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت خدمات بھی کی ہیں اس وجہ سے ان کی موت کی خبر سنتے ہی میں نے کہہ دیا کہ انہوں نے میری جتنی مخالفت کی وہ میں نے سب معاف کی۔خدا تعالی بھی ان کو معاف کرے۔حقیقت یہ ہے کہ جن بندوں کو خدا تعالیٰ کھینچ کر اپنے مامورین کے پاس لاتا ہے ان میں ہو سکتا ہے کہ غلطیاں بھی ہوں لیکن خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ہمیں ان خوبیوں کی قدر کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں خلافت کا انکار بڑی خطا ہے خدا تعالٰی نے اسے بڑا گناہ قرار دیا ہے مگر ہمار ا جہاں تک تعلق ہے۔ہمیں معاف کرنا چاہئے خدا تعالیٰ کے نزدیک اگر ایسے شخص کی نیکیاں بڑھی ہوئی ہوں گی۔تو وہ اس سے بہتر سلوک کرے گا "۔زمرہ اصحاب مسیح موعود کے ان مقدسین کے علاوہ حافظ سلطان حامد صاحب جو مدرسہ احمدیہ میں طلباء کو قرآن مجید حفظ کراتے تھے۔اور سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے استاد ہونے کا شرف رکھتے تھے ۲۷/ اپریل ۱۹۳۲ء کو انتقال کر گئے۔ای طرح چودھری شمشاد علی خان صاحب آئی سی ایس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پورنیا نے ۱۶/ جنوری ۱۹۳۲ء کو ایک حادثہ سے وفات پائی۔حکومت بہار کے سرکاری اعلان اور دوسری اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم اس روز شام کے بجے شکار سے جب کیمپ میں واپس پہنچے تو ایک شخص کے ہاتھ سے ان کی رائفل اتفاقاً چل گئی گولی بائیں پھیپھڑے میں لگی۔اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔چوہدری صاحب موصوف حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ہم مکتب اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے خسر تھے۔مرزا احمد بیگ صاحب انکم ٹیکس آفیسر سیالکوٹ کی تبلیغ سے قبول حق کی توفیق ملی - با قاعدہ بیعت 11 1910 ء میں کی تھی- IAT IA+