تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page vii
بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و على عبده المسيح الموعود تاریخ احمدیت جلد ہفتم کے اللہ تعالٰی کی دی ہوئی توفیق سے خلافت ثانیہ کے بابرکت دور کی تاریخ کی تیسری جلد احباب کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے یہ جلد دو ابواب میں ہے اور ۱۹۳۲ء سے لے کر ۱۹۳۵ء تک کے واقعات پر مشتمل ہے تاریخ کے پہلے باب میں علاوہ دوسرے اہم واقعات کے مقدمہ بہاول پور اور مشرقی افریقہ میں احمدیت کا بیج بوئے جانے اور پھر باوجود مخالفت کی آندھیوں کے اس کے بڑھنے اور تناور درخت بننے کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔دوسرے باب میں جماعت پر آنے والے ابتلائی دور کا مفصل ذکر کیا گیا ہے جب کہ احرار نے جماعت کی مخالفت کرتے ہوئے یہ تعلی کی تھی کہ وہ جماعت احمدیہ کو ختم کر دیں گے لیکن اللہ تعالی نے اپنے وعدوں کے مطابق احرار کے سب منصوبوں کو خاک میں ملادیا اور جماعت احمد یہ پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ ترقی کرنے لگی۔احرار کی مخالفت کے نتیجہ میں جو انعامات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے لئے کھولے۔ان کا ذکر انشاء اللہ مفصل اگلی جلد میں آئے گا۔سید نا حضرت مصلح الموعود ل کے ساتھ جو خدائی وعدے کئے گئے تھے ان میں سے دو وعدے یہ تھے کہ تو میں آپ سے برکت پائیں گی اور خدا کا سایہ آپ کے سر پر ہو گا۔ان ہر دو امور کی تصدیق ببانگ دہل اس جلد کے واقعات کر رہے ہیں۔اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس جلد کو قبول فرمائے اور مصنف مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کو صحت و سلامتی کے ساتھ باقی حصوں کو جلد مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) اور ان کی محنت کو نوازے۔وما توفيقنا الا بالله العظيم۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ بصرہ العزیز نے کتاب کے ابتدائی حصہ کو از راہ شفقت ملاحظہ فرمایا اور دعا فرمائی۔حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت حافظ سید مختار احمد لے نوٹ : موجودہ ایڈیشن کے اعتبار سے یہ الفاظ زیر نظر جلد ۶ کا تعارف ہیں۔