تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 492
تاریخ احمد بیت - جلد ۶ کے ساتھ زخم بھی پہنچایا گیا ہے۔ایسا کرنے والوں کا یہی منشاء ہے کہ ہتک بھی کریں اور دلوں کو زخمی بھی کریں"۔حکومت کے خلاف عقل و فہم نوٹس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے بعد مظلومیت کی بیکار حضور نے بالآخر نہایت دردانگیز الفاظ میں فرمایا۔”ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں۔ہمارے دل زخمی کر دیئے گئے ہیں۔ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔کسی سے کچھ نہیں مانگا۔مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور صحیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے۔مگر ابن آدم کے لئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں (متی ۸:۲۰) پس اے احمدی جماعت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنائے گا۔تمہارا فرض ہے کہ اپنے لئے خدا کے فضل سے آپ گھر بناؤ اس الہام میں یہی اشارہ ہے کہ یہ زمین اور آسمان تمہیں کانٹوں کی طرح کائیں گے۔آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روارکھا جارہا ہے۔کل پہرہ دینے والوں میں سے ایک خوش الحانی سے غالب کا شعر پڑھ رہا تھا۔دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں؟ میرے دل میں اس وقت یہ خیال گزرا کہ یہ ہمارے حسب حال ہے ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوئے۔حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی۔رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے۔بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالہ کر دیں۔اپنی بیش قیمت جائدادیں ان کو دے کر ہم میں سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں۔مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں۔اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ جو ہم پر اس قدر ظلم کئے جاتے ہیں۔گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم بے شک صابر ہیں۔متحمل ہیں۔مگر ہم بھی دل رکھتے ہیں اور ہمارے دل بھی درد کو محسوس کرتے ہیں۔اگر اس طرح بلاوجہ انہیں مجروح کیا جاتا رہا تو ان دلوں سے ایک آہ نکلے گی جو زمین و آسمان کو ہلا دے گی۔جس سے خدائے قہار کا عرش ہل جائے گا اور جب خدا تعالی کا عرش ہلتا ہے تو اس دنیا میں نا قابل برداشت عذاب آیا کرتے ہیں "۔یہ خطبہ جمعہ کئی ہزار کے مجمع نے گوش ہوش بن کر سنا اور رقت اور سوز سے سامعین کی ہچکیاں بندھ گئیں خدا کے حضور الحاح و زاری کا ایسا درد ناک منظر چشم فلک نے بہت کم دیکھا ہو گا۔