تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 491 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 491

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ لئے چلو جیل خانہ میں کون سا ایسا انسان ہے جو اس قسم کے چکروں سے اس قانون کے ماتحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔خربوزے کھا کر بازاروں میں چھلکے پھینکنے والوں کو بھی پکڑا جا سکتا ہے کہ کسی کا پاؤں پھلے گا اس کے متعلقین لڑائی کریں گے اور اس طرح ملک میں بدامنی پیدا ہوگی۔کیا کوئی معقول انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ صحیح استعمال ہے اس قانون کا اس کے لئے جس نے خود اس کے بنانے والوں سے بھی زیادہ قیام امن کی کوشش کی ہے۔(۷) حکومت نے یہ نوٹس دے کر ایک امن پسند جماعت کی ہتک کی کیونکہ اس نے یہ قرار دیا کہ جو احمدی یہاں آئیں گے فساد کریں گے۔۔۔۔۔(۸) حکومت نے نا انصافی کی جب اس نے اس رنگ میں ہمیں نوٹس دیا۔حالانکہ گزشتہ مواقع کی طرح وہ اب بھی خواہش امداد کر سکتی تھی۔اسی سلسلہ میں حضور پر نور نے یہ بھی فرمایا کہ۔حکومت کے افسروں کا ہتک آمیز رویہ بعض افسروں نے اس دوران میں اس ہتک کے احساس کو اور بھی مضبوط کیا ہے۔ایک افسر کو جب کہا گیا کہ یہ نوٹس خلیفہ کو کیوں دیا گیا؟ تو اس نے کہا۔کیا خلیفہ حکومت کی رعایا نہیں۔گویا رعایا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جس کی چاہو ہتک کر۔میں اس افسر کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت کی رعایا ہونے کے یہی معنی ہیں تو کوئی شریف اور غیرت مند انسان اس کی رعایا ہو نا پسند نہیں کرے گا۔ہم تو برطانوی رعایا ہونے کا یہی مطلب سمجھا کرتے تھے کہ اس حکومت میں سب کی عزت محفوظ ہے کوئی کسی کی تو ہین اور ہتک نہیں کر سکتا۔بلکہ رعایا کا ہر فرد برٹش ایمپائر کی عظمت کا حصہ دار ہے لیکن آج ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ خواہ تم پر کوئی غلط قانون ہی کیوں نہ استعمال کیا جائے رعایا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تمہیں بولنے کا کوئی حق نہیں اور اگر بولتے ہو تو تم باغی ہو۔اگر رعایا ہونے کا یہی مطلب ہے تو حکومت کو چاہئے کہ دلیری سے اس کا اعلان کر دے کہ اے ہندوستان کے رہنے والو! تمہاری عزت خاک میں ملا دی جائے گی۔اس صورت میں جو غیرت مند ہو گا وہ اس ملک سے نکل جائے گا۔بجائے اس کے کہ ذلیل ہو کر یہاں رہے۔ایک دوسرے افسر نے کہا کہ خلیفہ کے سوا اور کسے مخاطب کیا جاتا۔کیا اس صورت میں یہ نہ کہا جاتا کہ کسی اور کو ذمہ دار قرار دے کر خلیفہ کی ہتک کی گئی ہے جس دوست سے کہا گیا اس نے کیا اچھا جواب دیا کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اس قانون کی نافرمانی کی وجہ سے اگر کسی شخص کو قید کرنے کی نوبت آتی تو جماعت کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا کہ کسی اور کو یہ اعزاز دے کر خلیفہ کی ہتک کیوں کی گئی؟ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی افسر عقل سے ایسا کو را ہو سکتا ہے کہ وہ فی الواقع یہی بات سمجھ رہا ہو یہ تمسخر ہے اور جیسا کہ محاورہ ہے ہتک