تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 631 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 631

تاریخ احمد بیت - جلده 619 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مکتوب نمبر ۲: مکرمی در د صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ایک خط ابھی غزنوی صاحب کو لکھا ہے اس کے ضروری مطالب سے وہ آپ کو آگاہ کر دیں گے۔جموں کے واقعات سخت قابل افسوس ہیں۔بالا بالا کام سے سب کوشش کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔اگر اس طرح ایک جگہ کام شروع نہ کیا جاتا تو اس طرح بے دردی سے حملہ کرنے کی ریاست کے عمال کو جرات نہ ہوتی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نظام کی پابندی کی توفیق دے۔سیاہ نشان کے پروگرام کے متعلق اطلاع نہیں ملی۔اس طرح کشمیر کے لوگوں کی حقیقی تعداد کا جو اس تحریک سے دلچسپی لیتی ہے خوب پتہ لگ جاتا اور دلوں میں ہر وقت آزادی کی لہر دوڑتی رہتی نہ معلوم ابھی تک عمل شروع ہوا یا نہیں۔یہ پروگرام بہترین تعمیری پروگرام ہے اور ایک رنگ میں مردم شماری۔کیونکہ ہر سیاہ نشان لگانے والا بغیر ایک لفظ بولنے کے اپنے مقصد کی تبلیغ بھی کرتا اور دوسرے ایک نظر سے معلوم ہو سکتا کہ کس حد تک لوگ ہمدردی رکھتے ہیں۔گویا دل بھی مضبوط ہوتے۔پرو پیگنڈا ہو تا۔اپنوں کو اپنے اثر کا علم ہوتا اور ریاست پر رعب پڑتا۔اگر عمل نہیں ہوا تو اب توجہ ولا ئیں۔ظاہری نشانات باطنی حالتوں پر خاص روشنی ڈالتے ہیں۔کل آپ کی تار قانونی امداد کے متعلق ملی ہے۔پہلے لکھ چکا ہوں کہ قانونی امداد تیار ہے۔لیکن سوال تو یہ ہے۔(۱) مقدمات کب شروع ہوں گے۔(۲) کو شش ہو کہ ایک مجسٹریٹ متواتر سنے۔(۳) کمشن کا اس وقت تک بائیکاٹ ہو جب تک پہلے کمشن کی رپورٹ رد نہ ہو اور نئے کمشن کو مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نہ بنایا جائے۔ورنہ دوسرا کمیشن بھی مضر ہو گا۔اور جب تک مسلمانوں کی مظلومیت ثابت نہ ہو کانسٹی چیوشنل کمشن پر زور سفارش نہیں کر سکتا۔اساسی کمیشن کا بھی اس وقت تک بائیکاٹ ہونا چاہئے جب تک اس کی ہیئت ترکیبی درست نہ ہو۔پس بغیر ان امور کے تصفیہ کے آپ وکیل کیوں طلب کر رہے ہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا بہر حال دوستوں کو یقین دلائیں کہ انشاء اللہ وکلاء پہنچ جائیں گے ( آپ وزیر اعظم سے مل کر یہ کوشش کریں کہ ایڈووکیٹ اور بیرسٹر کے بغیر بھی دوسرے وکلاء کو اجازت مل جائے۔اس میں سہولت رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔خاکسار مرزا محمود احمد مکتوب نمبر ۳ مکرمی و معظمی راجہ سرہری کشن صاحب کول- آپ کا خط مجھے ملا۔اگر ہزہائی نس مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر خیال فرماتے ہیں کہ میری ملاقات سے کوئی بہتر صورت پیدا ہو سکتی ہے