تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 630
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ -11 618 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مسلمان ایک ہندو اور ایک انگریز ہو مقرر کر دیا جائے۔ایسے بج ہوں جن پر فریقین کو اعتماد ہو۔ان علاقوں میں فورا کم سے کم پچاس فیصدی افسر یعنی وزیر وزارت ، سپرنٹنڈنٹ پولیس انسپکٹران پولیس ، مجسٹریٹ درجہ اول و دوم مسلمان مقرر کر دیئے جائیں اور موجودہ تمام افسر وہاں سے بدل دیے جائیں۔گور نر کشمیر کو بھی وہاں سے فور ابدل دیا جائے۔قانون ، پریس اور ایسوسی ایشن انگریزی اصول پر فورا جاری کر دئے جائیں، قانون، آزادی تقریر ابھی جاری ہو جائے۔لیکن اگر اس کا اجرا دو تین ماہ کے لئے بعض قیود کے ماتحت ہو تو معقول قیود پر اعتراض نہ ہو گا۔معاملہ وکاہ چرائی و ٹیکس درختاں وغیرہ کے متعلق ایک کمشن مقرر کر کے مزید کمی کی جائے اور جہاں مناسب چراہ گاہیں نہیں وہاں کاہ چرائی کا ٹیکس بالکل اڑادیا جائے جہاں چراگاہیں ہیں وہاں اس میں معقول تخفیف کی جائے۔معاملہ کے لگانے میں جو زیادتیاں اور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور مسلمانوں پر زائد بوجھ ڈالا گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے۔جن جن علاقوں کے لیڈر سول نافرمانی بند کرنے کا اعلان کریں اور جہاں لوگ معاملہ دینے لگ جائیں یا دے چکے ہوں وہاں سے آرڈنینس ہٹا دیا جائے۔بعض افراد کے جرم قوم کی طرف منسوب نہ ہوں کثرت دیکھی جائے کہ کدھر ہے۔چونکہ مسلمانوں کو واقع میں روپیہ نہیں ملتا۔جن لوگوں کے پاس روپیہ نہیں معقول شرائط پر معاملہ کی ادائیگی کے لئے انہیں قرض دلوایا جائے۔ورنہ جب ان کے پاس ہو ہی نہ تو انہیں مجرم قرار نہ دیا جائے۔فیصلہ کر دیا جائے کہ دس سال کے عرصہ میں کم سے کم پچاس فیصدی افسر اور ماتحت عملہ قریباً مسلمانوں میں سے مقرر کیا جائے گا اور اس کے لئے ایسے قواعد تجویز ہو جا ئیں کہ اس فیصلہ پر عمل ہو نا یقینی ہو جائے۔جو سیاسی قیدی اس سمجھوتہ پر دستخط کر دیں ان کو رہا کر دیا جائے اور جن ملزموں کے متعلق مسلمانوں کو شبہ ہو کہ ان کا اصل جرم سیاسی ہے صرف ظاہر میں کوئی اور الزام لگایا گیا ہے ان کے کیس پر غور کرنے کے لئے ایک ایسا حج جس پر مسلمانوں کو اعتماد ہو مقرر کیا جائے۔جو مستقل مطالبات ۱۹ / اکتوبر ۱۹۳۱ء کو مسلمان نمائندوں کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔ان کے متعلق چھ ماہ کے اندر ریاست اپنا آخری فیصلہ شائع کر دے۔