تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 632 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 632

620 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد و اور امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے تو مجھے ان کی ملاقات کے لئے کسی مناسب مقام پر آنے پر کوئی اعتراض نہیں۔میں بڑی خوشی سے اس کام کو کروں گا۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا فائدہ مہاراجہ صاحب کے منشاء پر منحصر ہے۔کیونکہ فائدہ تب ہی ہو سکتا ہے اگر مہاراجہ صاحب مجھ سے اس امر پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات میں سے کون سے ایسے امور ہیں جن کے متعلق خود مہاراجہ صاحب اعلان کر سکتے ہیں اور کون سے ایسے امور ہیں جن کا اصولی تصفیہ اس وقت ہو سکتا ہے لیکن ان کی تفصیلات کو کلنسی کمیشن کی رپورٹ تک ملتوی رکھنا ضروری ہے اور کون سے ایسے امور ہیں کہ جن کے لئے کلی طور پر کنسی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔اگر مہاراجہ صاحب اس قسم کی گفتگو کرنے پر تیار ہوں اور اس امر کو پسند فرمالیں کہ وہ کسی مناسب مقام پر جیسے چھاؤنی سیالکوٹ میں تشریف لے آئیں تو میں چند ممبران کشمیر کمیٹی کو ہمراہ لے کر وہاں آجاؤں گا تاکہ جو گفتگو ہو میں فورا اس کے متعلق ممبروں سے گفتگو کرلوں اور فیصلہ بغیر نار اجب دیر کے ہو سکے۔مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا انتظام ہو گیا تو یقینا ریاست اور مسلمانوں دونوں کے لئے مفید ہو گا۔کیونکہ میرا یا میرے ساتھیوں کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ فساد پھیلے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی صورت پیدا ہو جائے۔اس صورت میں ہم پوری طرح امن کے قیام کے لئے کوشش کریں گے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد مکتوب نمبر ۴: مکرمی راجہ سرہری کشن کول صاحب۔آپ کا خط مورخہ ۳۱/ دسمبر ۱۹۳۱ء ملا۔جس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔چونکہ مقدم چیز یہ ہے کہ ہزہائی نس مہاراجہ صاحب سے میری ملاقات کوئی فید نتیجہ پیدا کرے۔اس لئے سردست میں ملاقات کی جگہ کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوں اور اصل سوال کو لیتا ہوں جو مسلمانوں کے حقوق کے تصفیہ کے متعلق ہے۔اگر ان امور کے متعلق ہزہائی نس مہاراجہ صاحب ہمدردانہ طور پر غور فرمانا چاہیں تو میں انشاء اللہ پوری کوشش کروں گا کہ مناسب سمجھوتہ ہو کر ریاست میں امن قائم ہو جائے۔مسلمانان کشمیر کے مطالبات کے جواب میں جو اعلان ہزہائی نس مہاراجہ بہادر نے ۱۲/ نومبر ۱۹۳۱ء کو فرمایا وہ بحیثیت مجموعی بہت قابل قدر تھا۔اور اسی لئے مسلمانان کشمیر اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس کے متعلق قدردانی اور شکریہ کا اظہار کیا۔مگر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جو مطالبات ریاست کے سامنے نمائندگان نے پیش کئے تھے ان میں نو امور ایسے تھے جن کے متعلق ان کا مطالبہ تھا کہ ان کا مناسب