تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 71 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 71

تاریخ احمدیت جلد ۵ 67 خلافت ثانیہ کا پندرھواں زبردست جدوجہد کی اور اس کے لئے قربانیاں دیں۔TIP احرار پنجاب کے دوش بدوش مولوی ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر ”زمیندار“ لاہور بھی رپورٹ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔اور ان کا اخبار اس کی حمایت میں وقف تھا۔بلکہ انہوں نے آگے چل کر مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لکھنو میں ایک ریزولیوشن بھی پیش کیا جس میں اس کے اصول کو پسند کرتے ہوئے اس کے مرتب کرنے والوں کی محنت و کاوش کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔اور جزئیات کو طے کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی بنانے کی رائے دی گئی تھی۔مذہبی لیڈروں میں سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری اور ان کے متعد در فقاء بھی حق میں تھے۔نہرو رپورٹ کے مخالف مسلمانوں کا طبقہ ان تفصیلات سے ظاہر ہے کہ ہندوستان خصوصاً پنجاب میں خود مسلمانوں کا ایک حصہ نہرو رپورٹ کی حمایت میں وقف اور اس کی تبلیغ کر رہا تھا۔اس کے مقابل بلاشبہ کئی درد مند دل رکھنے والے مسلمانوں کو جن میں سر محمد شفیع ، مولانا محمد علی جو ہر سر محمد اقبال جیسے مسلمان لیڈر بھی شامل تھے۔اس رپورٹ سے سخت اختلاف تھا مگر وہ اپنے اختلاف کے ساتھ ایسے وزنی اور واقعاتی دلائل نہ پیش کرتے تھے۔جو دو سرے مسلمانوں کو رپورٹ کی مضرتوں سے آگاہ کر کے اس کی کھلی مخالفت پر آمادہ کر دیں اور نہ یہ حضرات کسی منظم رنگ میں نہرو رپورٹ میں بے نقاب کرنے کی جد و جہد کر رہے تھے بلکہ ڈاکٹر سر محمد اقبال تو مایوس ہو کر پنجاب کو نسل میں اس نظریہ کا اظہار کر چکے تھے کہ ”ہندوستان میں حکومت کے لائق نہ مسلمان ہیں نہ ہندو اور یہ کہ میں ہندو مسلم افسران کی بجائے انگریز افسروں کا خیر مقدم کروں گا " - 1 ان حالات میں مسلمانان ہند کو ایک ایسے قائد و راہ نما کی ضرورت تھی جو میدان عمل میں آئے اور نہ صرف شہرو رپورٹ کا علمی و عملی رنگ میں تجزیہ کر کے انہیں اس کی مخالفت میں مضبوط چٹان پر TIA PIZ- کھڑا کر دے۔تاوہ اکثریت کے ناپاک عزائم سے محفوظ رہ کر اپنی قومی زندگی کو محفوظ کر سکیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے مدلل مسکت تبصرہ جیسا کہ اوپر ذکر آپکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ۸ / اگست ۱۹۲۸ء سے ۱۸ ستمبر ۱۹۲۸ء تک درس القرآن میں مصروف تھے۔اس کے بعد چند دن گذشتہ ماہ کے جمع شدہ کام کے نکالنے میں لگے جب فارغ ہوئے تو نہرو رپورٹ کی تلاش کی۔لیکن تلاش کے باوجود اس کی کوئی کاپی میسر نہ آئی اور آخری اطلاع لاہور سے یہی پہنچی کہ تیسرا ایڈیشن چھپنے پر ہی یہ کتاب دستیاب ہو سکے گی چونکہ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تھی۔آپ کو اس کا بہت