تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 68 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال افسوس ہوا۔اسی اثناء میں آپ کے اہل و عیال شملہ سے واپس آئے تو آپ انہیں لینے کے لئے امرت سر تشریف لے گئے۔جہاں آپ کو اسٹیشن کے بک سٹال سے اس کے دو نسخے مل گئے اس طرح ۱۲۱ ستمبر کو یہ رپورٹ فراہم ہوئی اور اسی وقت سے آپ نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔اور چونکہ پہلے ہی دیر ہو چکی تھی اس لئے آپ نے الفضل کے ذریعہ اس کے متعلق اپنی رائے کا باقساط اظہار شروع کر دیا۔جو نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح" کے عنوان سے ۲/ اکتوبر ۱۹۲۸ء سے ۲/ نومبر ۱۹۲۸ء تک سات قسطوں میں مکمل ہوا۔" تبصرہ کے مضامین پر طائرانہ نظر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تبصرہ کے آغاز میں رپورٹ کی اندرونی شہادتوں سے ثابت کرنے کے بعد کہ نہرو کمیٹی کسی صورت میں بھی ہندوستان کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی۔سب سے پہلے مسلمانوں کے اصولی مطالبات پر روشنی ڈالی جو یہ تھے۔-1 حکومت کا طریق فیڈرل یا اتحادی ہو یعنی تمام صوبوں کو اندرونی طور پر کامل خود مختاری حاصل ہو۔نیابت سے متعلق یہ اصل تسلیم کیا جائے کہ جن صوبوں میں کسی قوم کی اقلیت کمزور ہے اسے اپنے حق سے زیادہ ممبریاں دی جائیں لیکن جن میں اقلیت والی قوم یا اقوام مضبوط ہوں وہاں ان کی اصلی تعداد کے مطابق ہی حق نیابت حاصل ہو۔جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی اعتماد قائم نہ ہو جائے اس وقت تک سب صوبوں میں اور کم سے کم پنجاب اور بنگال میں جداگانہ طریق انتخاب جاری رہے۔صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کی طرح نیابتی حکومت دی جائے اور سندھ کو الگ صوبہ بنا کر اسے بھی نیا بتی اختیارات تفویض کئے جائیں۔کسی صوبہ میں بھی اکثریت کو اقلیت کی زبان یا اس کے طرز تحریر میں مداخلت کا حق حاصل نہ ہو۔حکومت نذہب یا مذ ہب کی تبلیغ میں دخل دینے کی مجاز نہ ہو۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے) ساتواں مطالبہ یہ بھی پیش ہو رہا تھا کہ ان حقوق کو قانون اساسی میں داخل کیا جائے اور قانون اساسی اس وقت تک نہ بدلا جا سکے جب تک کہ منتخب شدہ ممبروں میں سے ۲/۳ اس کے بدلنے کی رائے نہ دیں۔اور تین دفعہ کی متواتر منتخب شدہ مجالس آئینی پے در ۲/۳ رائے سے اس کے بدلنے کا فیصلہ کریں اور قانون اساسی کا جو حصہ کسی خاص قوم کے حقوق