تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 70
تاریخ احمدیت جلد ۵ 66 خلافت ثانیه کاند فیاضی اور کشادہ دلی کی اسپرٹ موجود ہوتی مگر جب موجود نہیں ہے اور ہمارے تحفظ کے لئے یہ باتیں کوئی قیمت بھی نہیں رکھتیں تو پھر یقینا ہماری خود داری اور غیرت کا تقاضا یہی ہونا چاہیئے کہ اس قسم کے مطالبوں سے خود ہی دستبردار ہو جائیں اور اپنے مستقبل کا دامن غیرت اپنے تنگ دل بھائیوں کے منت کرم داشتن سے آلودہ نہ ہونے دیں"۔یہی نہیں ان کا نعرہ ہمیشہ یہ رہا کہ "اگر ایسے مسلمان دماغ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنی گزری ہوئی تہذیب و معاشرت کو پھر تازہ کریں جو وہ ایک ہزار برس پہلے ایران اور وسط ایشیا سے لائے تھے تو میں ان سے یہ بھی کہوں گا کہ اس خواب سے جس قدر جلد بیدار ہو جا ئیں بہتر ہے کیونکہ یہ ایک قدرتی تخیل ہے اور حقیقت کی سرزمین میں ایسے خیالات اگ نہیں سکتے۔در اصل مولوی ابو الکلام صاحب آزاد کے اس مسلک کے پیچھے صرف ایک جذ بہ سب سے نمایاں کار فرما تھا یعنی گاندھی جی کی اطاعت۔چنانچہ انہوں نے کہا۔" ہماری کامیابیوں کا دار و مدار تین چیزوں پر ہے اتحاد- ڈسپلن (Discipline) اور مہاتما گاندھی کی راہنمائی پر اعتماد یہی ایک راہنمائی ہے جس نے ہماری تحریک کا شاندار ماضی تیار کیا۔اور صرف اس سے ہم ایک فتح مند مستقبل کی توقع کر سکتے ہیں۔| F•A مولوی ابو الکلام صاحب آزاد (جن کی پشت پر کانگریس اور ہندوؤں کی طاقت و ثروت تھی) کے ہمنواؤں کی کثیر تعداد نہرو رپورٹ کی سرگرم موید تھی جو ہندوستان میں ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے حتی کہ پنجاب میں بھی جو مسلم اکثریت کا صوبہ ہونے کی وجہ سے فرقہ وارانہ مسائل کا بنگال سے بڑھ کر آماجگاہ بنا ہوا تھا۔خلافت کمیٹی کے سابق ارکان (مثلاً چودھری افضل حق صاحب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی وغیرہ) جنہوں نے دسمبر ۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام کی بنیاد رکھی۔نہرو رپورٹ کی حمایت کر رہے تھے۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب کی نسبت ( جنہیں اس مجلس کے دماغ کی حیثیت حاصل تھی۔II اور جنہیں بعد کو قائد و مفکر اور مصلح و مجدد کے نام سے بھی پکارا گیا۔ان کے رفقاء کا کہنا ہے کہ ۱۹۲۸ء میں نہرو رپورٹ مرتب ہوئی تو اس سکیم کی حمایت کی قصر برطانیہ کے وہ ستون جنہوں نے چند سنہری سکوں کی جھلک کی خاطر ضمیر فروشی کر رکھی تھی آپ کے خلاف ہو گئے۔ان حضرت کا اس بارے میں غلو د تشد د جس انتہا تک پہنچ گیا اس کا کسی قدر اندازہ مندرجہ عبارت سے ہو سکتا ہے کہ وہ رپورٹ پر تنقید کرنے والوں کو برطانوی ایجنٹ تک قرار دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔خود چوہدری افضل حق صاحب نے اپنی کتاب " تاریخ احرار " میں محتاط الفاظ میں اقرار کیا ہے کہ احرار نے نہرو رپورٹ کو مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لئے