تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 68
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 64 فصل پنجم شہرو رپورٹ " پر مفصل تبصدد اور اس کے خلاف زبردست احتجاج نہرو کمیٹی کا قیام اور مسلم حقوق کی پامالی سائمن کمیشن کی تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلہ پر تھیں کہ مسٹر بروکن ہیڈ (وزیر ہند) نے ایک بیان دیا کہ ہندوستانی اس درجہ منقسم مختلف اور ایک دوسرے سے بیزار ہیں کہ وہ ایک متحدہ دستور اساسی بھی نہیں بنا سکتے۔اور کہا کہ اگر وہ حکومت کے مقرر کردہ کمیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو خود ہی ہندوستان کے لئے ایک مناسب دستور کا خاکہ تیار کر کے دکھا دیں۔کانگریس نے جو شروع سے سائمن کمیشن کا بائیکاٹ کئے ہوئے تھی۔اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ۱۹ مئی ۱۹۲۸ء کو آل پارٹیز کانفرنس کا ایک اجلاس بمبئی میں منعقد کیا۔جس میں ہندوستان کا دستور اساسی تشکیل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اصحاب کی ایک سب کمیٹی مقرر کی۔(۱) پنڈت موتی لال نہرو (۲) مسٹر سبھاش چندر بوس (نمائندہ کانگریس) (۳) مسٹر اینی (۴) مسٹر جیاکار (نمائندہ ہند و مهاسبها (۵) سرتیج بہادر سپرو نمائندہ لیبرل فیڈریشن (۲) مسٹر پر دھان (غیر برہمنوں کے نمائندہ ) (۷) سر علی امام (۸) مسٹر شعیب قریشی (نمائندہ مسلمانان ہند) (۹) سردار منگل سنگھ (سکھ لیگ کے نمائندہ) (۱۰) مسٹر جوشی ( مزدوروں کی طرف سے ) بالفاظ دیگر دس ممبروں میں سے صرف دو مسلمان مسلم نقطہ نگاہ کے اظہار کے لئے نامزد ہوئے جن میں سے سر علی امام بوجہ بیماری صرف ایک اجلاس میں شریک ہو سکے۔اور گو جناب شعیب قریشی نے شرکت جاری رکھی۔لیکن اسی اثناء میں انہیں یہ معلوم کر کے بہت مایوسی ہوئی کہ ایک ایسا دستور وضع کیا جارہا ہے جس میں ہندو اکثریت کو سب کچھ مل جائے گا۔اور مسلم اقلیت بالکل محروم رہ جائے گی حتی کہ مسلم لیگ کے وہ مطالبات جنہیں کانگریس منظور کر چکی تھی۔پنڈت موتی لال نہرو نے رد کر دئیے اور کمیٹی نے خود کانگریس کی طے شدہ پالیسی پر خط تنسیخ کھینچ دیا۔یہ رنگ دیکھ کر جناب شعیب قریشی صاحب الگ ہو کر بیٹھ رہے اور انہوں نے رپورٹ پر دستخط تک نہیں کئے۔m پنڈت موتی لال 142