تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 69 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 69

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 65 صاحب نہرو نے ان کی جگہ چوہدری خلیق الزماں صاحب اور تصدق احمد خان صاحب شروانی لے لیئے۔یہ تھی نہرو رپورٹ جو آل پارٹیز کانفرنس لکھنو میں پاس کی گئی اور جسے کانگریس کی طرف سے ۱۲/ اگست ۱۹۲۸ء کو سارے ہندوستان کے نمائندہ دستور کی حیثیت سے شائع کیا گیا۔حق یہ ہے کہ نہرو رپورٹ صرف اور صرف ہندوؤں کی نیابت کرتی تھی۔چند آدمی اپنی مرضی سے ایک جگہ جمع ہو گئے جن میں کئی لوگ ایسے تھے۔کہ جنہوں نے اپنے تئیں خود ہی لیڈر قرار دے لیا تھا نہ مسلمان سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اس میں ہوئی نہ مختلف صوبوں کی نمائندگی۔حالانکہ جن مسائل میں اختلاف زیادہ بھیانک صورت میں نمایاں ہو تا تھا وہ صوبائی مسائل تھے نہ کہ آل انڈیا مسائل۔پھر جہاں تک مسلم مطالبات کا تعلق تھا وہ تقریباً نظر انداز کر دیئے گئے۔اور جو باقی رکھے گئے ان پر ایسے پیرا یہ بیان میں بحث کی گئی جو نہایت حوصلہ شکن تھا۔اور صاف طور پر بیان کیا گیا کہ مطالبات فرقہ دارانہ ہیں اور مفاہمت ممکن نہیں۔نیز بنگال و پنجاب کی مسلم اکثریت کو بھی خطرہ میں ڈال دیا اور محمد امین زبیری مارہروی کے الفاظ میں " رپورٹ دراصل اس خطرہ کی گھنٹی تھی کہ ہندوستان میں دو ہری حکومت قائم ہو۔جس میں فوجی اور خارجی اختیار انگریزوں کے ہاتھ میں رہے اور ملکی و انتظامی اختیارات ہندو اکثریت کے ہاتھ میں آجائیں تا بر طانوی سنگینوں سے مسلمانوں کو غلام بنالیا جائے اور بقول مولانا محمد علی جو ہر کہ "جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد میں منادی کی جاتی تھی تو منادیکارتا تھا کہ خلقت خدا کی ملک بادشاہ کا حکم کمپنی بہادر کا لیکن نہرو رپورٹ کا ملخص یہ ہے کہ خلقت خدا کی ملک وائسرائے یا پارلیمنٹ کا اور حکم مہاسبھا کا "۔ہندوؤں کو تو اس کانگریس نواز حلقوں کی طرف سے نہرو رپورٹ کی تائید امپورٹ کا حامی ہونا چاہیئے تھا لیکن حیرت یہ ہے کہ خود مسلمانوں میں بھی ایک خاصہ بارسوخ طبقہ اس کی بے سوچے تائید میں اٹھ کھڑا ہوا۔اور مولوی ابو الکلام صاحب آزاد اس کے سرخیل تھے جنہوں نے شروع ہی سے مسلمانوں کو یہ دلا سا دینے کی کوشش کی تھی کہ ہندو اکثریت کا خطرہ محض " شیطانی وسوسہ " ہے۔انہیں مسلم تھا کہ ”ہندوؤں کا جماعتی وصف تنگ دلی اور کو تاہ دستی ہے۔وہ چیز جسے دل کا کھلا ہونا اور طبیعت کی فیاضی کہتے ہیں ہمارے ہندو بھائیوں میں پیدا نہ ہو سکی۔بایں ہمہ وہ مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ وہ بے اعتمادی کا مظاہرہ کر کے چند نشستوں " اور " نام نہاد ضمانتوں " کو جو " گناہ بے لذت " سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں اور جنہیں ہندو " خاص رعایت سے " تعبیر کر سکتے ہیں چھوڑ دینا چاہئے۔اور ان کا کہنا تھا کہ " یہ باتیں خاص رعایت نہ تھیں اگر دوسری جماعت میں "