تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 65 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 65

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 61 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال اس کا وعظ کیا جائے۔وہ اس لئے آیا ہے کہ پڑھا جائے اور سنایا جائے۔پھر پڑھا جائے اور سنایا جائے۔پھر پڑھا جائے اور سنایا جائے۔خدا تعالیٰ نے اس کا نام پانی رکھا ہے اور پانی جب پہاڑوں پر گرتا ہے تو ان میں بھی غاریں پیدا کر دیتا ہے وہ نرم چیز ہے مگر گرتے گرتے سخت سے سخت پتھروں پر بھی نشان بنا دیتا ہے۔اور اگر جسمانی پانی اس قدر اثر رکھتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالی کا نازل کیا ہوا روحانی پانی دلوں پر اثر نہ کرے۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بار بار سنایا جائے اور اپنے عمل سے نیک نمونہ پیش کیا جائے "۔ستمبر سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجوزہ درس بروقت ختم کرنے کے لئے صبح آٹھ بجے سے 122- قریباً ساڑھے گیارہ بجے تک اور پھر ظہر کے بعد عصر تک دینا شروع فرما دیا۔۶ ستمبر کو حضور نے درس میں شامل ہونے والے دار مسیح موعود میں دعوت طعام اصحاب کو دار مسیح موعود علیہ السلام میں دعوت طعام دی جس میں بہت سے مقامی اصحاب کو بھی شمولیت کا فخر بخشا۔اخبار الفضل نے اس دعوت پر یہ نوٹ لکھا۔اس دعوت کی قدر و قیمت وہی اصحاب جانتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ کے سوکھے ٹکڑے بطور تبرک لے جاتے ہیں اور اپنے عزیزوں میں بطور تحفہ تقسیم کرتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی دعوت دینے والے ہوں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے نو نہال دعوت کھلانے والوں میں ہوں اور دار مسیح موعود میں بیٹھ کر دعوت کھانے کا موقعہ نصیب ہو۔اس سے بڑھ کر ایک احمدی کے لئے کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے مبارک ہو ان اصحاب کو جنہیں یہ موقعہ میسر آیا اور خوش قسمت ہیں وہ انسان جنہیں روحانی مائدہ کے ساتھ اس دعوت میں بھی شریک ہونے کا فخر حاصل ہوا"۔چونکہ کئی اصحاب کو بعض مجبوریوں کے باعث واپس جانا الوداعی تقریر اور خطبہ جمعہ ضروری تھا اس لئے حضور نے اگلے روزے / ستمبر کو گیارہ بجے تک درس دینے کے بعد جانے والے اصحاب کے لئے ایک مختصری الوداعی تقریر فرمائی جس میں تبلیغ اسلام کرنے ، قرآن مجید کے حقائق و معارف پھیلانے اور قلمی جہاد کرنے کی نصیحت کرنے کے بعد حاضرین سمیت نهایت خشوع خضوع سے لمبی دعا فرمائی دوران دعا گریہ و بکا سے مسجد میں گونج پیدا ہو گئی۔خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ای روز آپ نے خطبہ جمعہ میں بیرونی احباب کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے اپنے مقام پر جاکر جماعتوں کو سنبھالنے اور چست بنانے کی کوشش کریں۔اور ان میں زندگی کی روح پیدا کریں اور انہیں -