تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 64
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 60 خلافت ثانیہ کا بند رھوا پروگرام کے مطابق ۸ / اگست ۱۹۲۸ء کو مسجد اقصی میں نماز ظہر کے بعد درس کا آغاز ہوا۔درس محفوظ کرنے کے لئے حضور نے درس نوٹ کرنے والے علماء اور زود نویس پہلے دن سے سلسلہ کے جید علماء اور زود نویسوں کی ایک جماعت متعین فرما دی تھی جو مندرجہ ذیل اصحاب پر مشتمل تھی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ - مولوی ارجمند خان صاحب ، مولوی غلام احمد صاحب بدو طهوی، مولوی ظهور حسین صاحب مولوی ابو العطاء صاحب جالند نھری بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ابو البشارت مولوی عبد الغفور صاحب، مولوی محمد یار صاحب عارف مولوی عبد الرحمن صاحب ،مصری ، مولوی ظفر الاسلام صاحب سردار مصباح الدین صاحب، مولوی علی محمد صاحب اجمیری ، شیخ چراغ الدین صاحب ان کے علاوہ سامعین میں سے (جن کی تعداد بعض اوقات پانچ سو سے بھی زیادہ ہو مستقلین کا تقرر جاتی اور جن میں مقامی احباب بھی شامل تھے ) ۸۱ کے قریب اصحاب کا نام ایک رجسٹر میں درج کر لیا گیا اور ان کا نام مجلین رکھا جنہیں حضور کے قریب جگہ دی جاتی تھی۔اور ان کی روزانہ درس سے قبل حاضری ہوتی تھی اور ۱۲ / اگست سے تو ان کا امتحان بھی لیا جانے لگا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی درس شروع کرنے سے پیشتر سوالات لکھوا دیتے اور پھر جواب لکھنے کے بعد پرچے لے لیتے۔اور دوسرے دن نتیجے کا اعلان فرما دیتے پہلے امتحان میں بابو محمد امیر صاحب امیر جماعت کوئٹہ اول صوفی صالح محمد صاحب قصور دوم اور مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیان سوم رہے۔اس کے بعد نتائج میں پانچ درجوں تک کا اعلان ہو تا تھا جب مجلین کی تعداد ایک سو سات تک پہنچ گئی تو مسجد میں ان کی نشستیں مقرر کر دی گئیں۔تا ان کو بیٹھنے میں آسانی ہو۔درس القرآن کے عام اوقات اڑھائی بجے سے پانچ بجے تک اور پھر نماز عصر کے بعد 4 بجے سے ے بجے تک مقرر تھے۔لیکن عام طور پر اس سے زیادہ وقت صرف کیا جاتا۔۳۱ / اگست ۱۹۲۸ء کو حضور نے خطبہ جمعہ میں درس القرآن سننے والوں سے خطاب درس القرآن سننے والوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی کہ : درس جب انہوں نے تکلیف اٹھا کر بنا ہے تو اس سے فائدہ بھی اٹھا ئیں اور وہ اس طرح کہ قرآن کریم کو دنیا تک پہنچائیں۔قرآن دنیا میں غلافوں میں رکھنے یا جھوٹی قسمیں کھانے کے لئے نہیں آیا۔بلکہ اس لئے آیا ہے کہ منبروں پر سنایا جائے۔مناروں پر اس کی منادی کی جائے اور بازاروں میں