تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 66 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 66

تاریخ احمدیت جلد ۵ 62 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال بتائیں کہ ان کا معیار آگے والے کی طرف دیکھنا ہوتا ہے۔دنیا دار قربانی کرتے وقت پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور شکریہ کے وقت آگے کی طرف پھر ارشاد فرمایا کہ " آپ لوگوں نے قرآن کریم کا جو حصہ پڑھا ہے۔اسے ضبط کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اور دوسروں سے عمل کرانے کی کوشش کریں تاکہ جو مشکلات دین پر آرہی ہیں وہ دور ہوں اور خداتعالی اپنے فضل سے دین کی ترقی کے سامان پیدا کرے اور ہماری کمزوریوں کی وجہ سے اس کے دین کو نقصان نہ پہنچے "۔IAL درس کافوٹو جمعه و عصر کے بعد پھر درس ہوا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی معیت میں پورے مجمع کا فوٹو لیا گیا۔۸ / ستمبر درس القرآن کا آخری دن تھا اس روز صبح سے درس شروع ہوا جو دو بجے دوپہر تک مسلسل جاری رہا۔دوبارہ اجتماعی دعا صد قہ اور تقسیم انعامات درس کے خاتمہ پر حضور نے دوبارہ اجتماعی دعا کرائی اور ماسٹر فقیر اللہ صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس کی طرف سے حاضرین میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔اس موقعہ پر حضور نے فرمایا کہ چونکہ رسول کریم ال کے متعلق آتا ہے کہ حضور علیہ السلام رمضان کے دنوں میں جبکہ قرآن نازل ہو تا تھا بہت صدقہ دیا کرتے تھے اس لئے میں بھی اس موقعہ پر اپنی طرف سے دس روپے بطور صدقہ دیتا ہوں اور بھی جن دوستوں کو توفیق ہو قادیان کے غرباء کے لئے صدقہ دیں اس پر قریبا دو سو روپے اس وقت جمع ہو گئے۔JAP آخر میں حضور نے اپنے دست مبارک سے درس کے سب امتحانات میں نتائج کے لحاظ سے اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات عطا فرمائے۔اول انعام حافظ عبد السلام صاحب شملوی نے دو سرا صالح محمد صاحب قصور نے۔تیسرا نذیر احمد صاحب متعلم ہی۔ایس سی نے اور چوتھا فقیر محمد صاحب کورٹ انسپکٹر نے اور پانچواں شیخ عبد القادر صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ (حال مربی سلسلہ احمدیہ) نے حاصل کیا۔تقسیم انعامات کے بعد یہ مقدس و مبارک تقریب اختتام پذیر ہوئی۔عورتوں کی عزت کے قیام کے لئے خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ الی الثانی ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے ۲۸ / ستمبر ۱۹۲۸ء کو ایک اہم خطبہ جمعہ دیا۔جس میں جماعت کو ہدایت فرمائی کہ عورتوں کی عزت کی حفاظت کرو۔خواہ تمہارے دشمنوں کی عورتیں ہیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔عورت کی عزت کی حفاظت خواہ وہ دشمن کی ہو۔انسانیت کا ادنی فرض ہے۔اور بہادر آدمی کا کام ہے کہ کسی ادنیٰ سے ادنی درجہ کی عورت کی عزت کی حفاظت کے لئے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق