تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 60 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 60

تاریخ احمدیت جلد ۵ 56 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ایک اصولی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے مسلم ارشاد مخالف اخبارات سے متعلق اتحاد کو ترقی دینے کے لئے قبل ازیں یہ تحریک فرما رکھی تھی کہ مسلمان متحدہ مسائل میں مل کر کام کریں۔اور مسلم پریس ایسی باتوں کی اشاعت سے احتراز کرے جو باہمی منافرت کا موجب ہوں اور اسی وجہ سے احمد یہ پریس نے ایک عرصہ سے مسلمان اخبارات کے خلاف لکھنا ترک کر دیا تھا۔مگر افسوس حضور کی ذات اور احمدیوں کے خلاف "زمیندار" وغیرہ اخبارات نے اپنی روش میں کوئی تبدیلی نہ کی اور سراسر بے بنیاد پر اپیگینڈا جاری رکھا۔اس لئے ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ (چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے) نے ۱۲ / جولائی ۱۹۲۸ء کو حضور کی خدمت میں لکھا کہ حضور اجازت مرحمت فرمائیں کہ ایسے الزامات اور جگر سوز تحریروں کا معقولیت کے ساتھ جواب دیا جائے۔اس درخواست پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ارشاد فرمایا کہ میں آپ سے متفق ہوں کہ ہماری خاموشی سے سلسلہ کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور باوجو د بار بار توجہ دلانے کے کہ ہم صرف اسلام کی خاطر خاموش ہیں انہوں نے نصیحت حاصل نہیں کی۔اور محض ذاتی بغض پر اسلام کے فوائد کو قربان کر دیا ہے۔اب یہ ذاتی عداوت ایسا رنگ اختیار کر رہی ہے کہ اس کا نقصان اسلام اور مسلمانوں کو پہنچنے کا خطرہ ہے۔اور وہ تحریک اتحاد جسے میں نے بصد کوشش جاری کیا تھا اس سے متاثر ہونے کے خطرہ میں ہے پس اسلام اور مسلمانوں کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس امر کی اجازت دیتا ہوں اور بادل نخواستہ دیتا ہوں کہ صاحبان جرائد اور مصنفین سلسلہ کو اجازت دی جائے کہ وہ ایسے اعتراضات کے جواب دے دیا کریں جن کا اسلام یا سلسلہ کے کاموں پر بد اثر پڑنے کا اندیشہ ہو۔لیکن سخت الفاظ کے استعمال سے پر ہیز کیا کریں۔اور جہاں تک ممکن ہو سکے ذاتیات کی بحثوں میں نہ پڑا کریں کہ ان بحثوں میں پڑنے سے فساد کے بند ہو جانے کا احتمال بہت کمزور ہو جاتا ہے"۔”پیغام صلح کا پیام جنگ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا اہم فرمان تی پیغام صلح" نے ۱۷ جولائی ۱۹۲۸ء کی اشاعت میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔ان کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں کریں صلح کریں یا جنگ کریں ہم دونوں حالتوں میں ان کے عقائد کے خلاف جو اسلام میں خطر ناک تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں ہر حال میں جنگ کریں گے' حضور نے اس پر ۱۸/ جولائی ۱۹۲۸ء کو ایک مفصل مضمون سپرد قلم فرمایا۔جس میں احباب جماعت