تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 61
تاریخ احمدیت جلد ۵ 57 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال کو ہوشیار کرتے ہوئے لکھا : حضرت خلیفہ اول الہ نے ایک دفعہ تحریر فرمایا تھا کہ پیغام صلح نہیں وہ پیغام جنگ ہے اور آج کھلے لفظوں میں پیغام صلح نے ہمیں پیغام جنگ دیا ہے اور صرف اس بات پر چڑ کر کہ کیوں ہم نے رسول کریم کی حفاظت کے لئے اور آپ کے خلاف گالیوں کا سد باب کرنے کے لئے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر ایک ہی دن سینکڑوں جلسوں کا انعقاد کیا ہے۔میں اس جرم کا مجرم بے شک ہوں اور اس جرم کے بدلہ میں ہر ایک سزا خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں اور چونکہ اس اعلان جنگ کا موجب ہمارے عقائد نہیں کیونکہ انہی عقائد کے معتقد خود مولوی محمد علی صاحب بھی رہے ہیں اور سب فرقہ ہائے اسلام ان کے معتقد ہیں بلکہ ہماری خدمات اسلام ہیں اس لئے میں اس چیلنج کو خوشی سے منظور کرتا ہوں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے دماغوں پر اس اعلان جنگ کو لکھ لیں۔”پیغام " ہم سے آخری دم تک جنگ کرنے کا اعلان کرتا ہے اب ان کا بھی فرض ہے کہ وہ اس جنگ کی دفاع کے لئے تیار ہو جائیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے یہ لوگ دنیا میں قائم رکھے جائیں گے تاکہ آپ لوگ ہمیشہ ہوشیار رہیں۔لیکن جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ لوگ اس کے فضل سے ان پر غالب رہیں گے اور وہ ہمیشہ آپ کی مدد کرے گا۔پس خدا تعالیٰ کے لئے نہ کہ اپنے نفسوں کے لئے ان صداقتوں کے پھیلانے کے لئے مستعد ہو جاؤ۔جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں اور اس بغض اور کینہ کو انصاف اور عدل کے ساتھ مٹانے کی کوشش کرو جس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی ہے اور اس فتنہ اور لڑائی کا سد باب کرو جس کا دروازہ انہوں نے کھولا ہے اور کوشش کرد۔کہ مسلمانوں کے اندر اس صحیح اتحاد کی بنیاد پڑ جائے۔جس کے بغیر آج مسلمانوں کا بچاؤ مشکل ہے اور جسے صرف اپنی ذاتی اغراض کے قیام کے لئے یہ لوگ روکنا چاہتے ہیں اور کوشش کرد کہ ان میں انصاف پسند رو میں اپنی غلطی کو محسوس کر کے آپ لوگوں میں آشامل ہوں تاکہ جس قدر بھی ہو سکے اس اختلاف کی شدت کو کم کیا جاسکے اللہ تعالٰی آپ کے ساتھ ہو "- CD شرفاء سے دردمندانہ اپیل جہاں تک غیر مبایعین کے ذاتی حملوں کا تعلق تھا۔حضور نے نہایت درد بھرے الفاظ میں شریف و متین طبقوں سے اپیل کی۔کہ وہ اس جنگ میں فریقین کے طرز عمل اور رویے کا فرق ملحوظ رکھیں۔اور اس پر گواہ رہیں۔چنانچہ حضور نے لکھا : میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر فرقہ اور ہر مذہب کے شریف لوگ جو ہمارے لٹریچر کو اخباری یا علمی ضرورتوں کی وجہ سے پڑھتے ہیں اس امر پر گواہی دیں گے کہ بلاوجہ اور متواتر مجھ پر ظلم کیا گیا ہے۔