تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 726
تاریخ احمدیت جلده 698 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اقتباسات سے بآسانی لگ سکتا ہے :- ا۔ہندوستان کے مشہور اخبار "پر تاپ" نے اپنی ۲۳ اگست ۱۹۵۰ء کی اشاعت میں واضح لفظوں میں اقرار کیا:- یو این او سے پاکستان کے خلاف فریاد کرنا ہمالیہ جیسی بڑی غلطی تھی ہم وہاں گئے تھے مستغیث بن کر اور لوٹے وہاں سے ملزم بن کر۔دوسری غلطی اس وقت ہوئی جب ہم نے یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو اس کے کہنے پر جنگ بند کر دی۔جنگ بند نہ کی ہوتی تو کشمیر کے سوال کا خود بخود حل ہو گیا ہوتا نهرو وزارت کا یہ عمل صحیح تھا کہ انہوں نے مہاراجہ کی درخواست پر اپنی فوجیں کشمیر کی رکھشا کے لئے بھیجیں اس کی یہ ذمہ داری لینا غلط تھا کہ جب ہم حملہ آوروں سے کشمیر کو پاک کر دیں گے تو ہم اس کے پر جاسے پوچھیں گے کہ تم ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہو یا پاکستان کے ساتھ ؟ اس کا یہ عمل بھی غلط تھا کہ وہ یو این او کے پاس مستغیث بن کر گئی۔آج تک ہم یو - این۔اومیں جانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔-۲- سردار گور بخش سنگھ صاحب بی۔ایس سی نے اپنے رسالہ " پر بیت لڑکی " (جون ۱۹۴۹ء) میں لکھا ” مونٹ بیٹن نے پنڈت نہرو کو تلقین کر کے کشمیر کا معاملہ متحدہ قوموں کی انجمن میں امریکہ بھجوا دیا۔وہاں ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے اور ہم اس دلدل سے نکل نہیں سکے "۔- ماسٹر تارا سنگھ صاحب نے اپنے رسالہ سنت سپاہی (ستمبر ۱۹۵۱ء) میں لکھا:- کشمیر کے معاملہ میں ان (ہندو لیڈروں) کی سیاست تباہی والی ہے اور انہوں نے یہ سوال متحدہ قوموں کی انجمن میں پیش کر کے ہمالیہ جتنی بڑی غلطی کی ہے "۔یو - این - او- پر اعتماد نہ کرنے کی نصیحت حضرت خلیفہ المسی الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ان دنوں جبکہ یو۔این۔اد میں مسئلہ کشمیر پر بحث ابھی ابتدائی مرحلہ پر تھی۔اس رائے کا اظہار فرمایا کہ سیکیورٹی کو نسل اپنے دو سرے فیصلوں کی طرح کشمیر کا فیصلہ بھی حقائق اور واقعات کی روشنی میں تقاضائے انصاف کے مطابق نہیں کرے گی۔بلکہ اس کا فیصلہ بین الا قوامی سیاست کے پیش نظر ہو گا۔چنانچہ عملاً یہی ہوا کہ بڑی طاقتوں نے آزادانہ استصواب کی قرار داد منظور کر لینے کے باوجود یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جنگ بند کرا کے مسئلہ کشمیر کو لمبے عرصہ کے لئے کھٹائی میں ڈال دیا تاہم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوشش سے پاس ہو نیوالی (۱۳ اگست ۱۹۴۹ء کی قرار داد آجتک قائم ہے۔اور تحریک آزادی کشمیر کی آئینی و قانونی جدوجہد کا کام دے رہی ہے۔