تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 727 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 727

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 699 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد به فصل دهم فرقان بٹالین کے کار ہائے نمایاں از جون ۱۹۴۸ء تاجون ۱۹۵۰ء) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ستمبر ۱۹۴۷ء میں جماعت احمدیہ پاکستان کے نمائندوں کی ایک مجلس شوری ہجرت قادیان کے بعد رتن باغ لاہور میں بلائی اور اس میں اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف کے التوا کا جو اعلان (ارشاد نبوی "فع الحرب" کی تعمیل میں ) فرمایا تھا اب اس کا زمانہ ختم ہو رہا ہے۔اور جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ جہاد بالسیف کے لئے تیاری کریں تاجب وقت جہاد آجائے تو سب اس میں شمولیت کے قابل ہوں۔احمدی کمپنی معراجکے کے محاذ پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جس زمانہ کی خبر دی تھی وہ جلد ہی آگیا جبکہ حکومت پاکستان کے بعض فوجی افسروں نے حضرت خلیفتہ ا فتہ المسیح الثانی سے محاذ جموں کے لئے ایک پلاٹون بھیجوانے کی خواہش کی جس پر حضور نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی کمان میں چالیس پچاس احمدی جوان بھجوائے جو ڈپٹی کمشنر صاحب سیالکوٹ کے ایماء پر جموں سرحد پر واقع گاؤں معراجکے میں متعین کئے گئے۔جہاں بھارتی فوج کی بمباری اور گولہ باری اکثر اوقات جاری رہتی تھی اور پے درپے ہوائی حملے ہوتے رہتے تھے کمپنی کے بہادر سپاہی دن کو اپنے دفاعی مورچوں میں ڈٹے رہتے اور رات کو پڑولنگ کے ذریعہ سے دشمن کی سرگرمیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔اس محاذ پر دو احمدی نوجوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔(۱) برکت علی صاحب آف راستہ زید کا ضلع سیالکوٹ (۲) اللہ رکھا صاحب جسو کے ضلع گجرات۔فرقان بٹالین کا قیام یہ کمپنی ابھی معراجکہ بنی میں نبرد آزما تھی کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ایک رضا کار بٹالین کے قیام کا منشاء ظاہر ہوا۔جس پر سیدنا المصلح الموعود نے جماعت احمدیہ میں شوق جہاد اور ذوق شہادت کی ایسی زبر دست روح پھونک دی کہ احمدی جوان ملک کے چاروں طرف سے لبیک کہتے ہوئے رتن باغ لاہور میں پہنچنے شروع ہو گئے۔اور جون ۱۹۴۸ء میں فرقان بٹالین معرض وجود میں آگئی اور معراجکے میں متعین سپاہی اس بٹالین میں منتقل کر کے سرائے عالمگیر کے قریب سوہن گاؤں سے متصل بھجوا دیئے گئے جہاں نہر کے کنارے بٹالین کا