تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 725 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 725

تاریخ احمدیت جلد ۵ 697 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ اس کے علاوہ پاکستانی پریس نے حضرت چوہدری صاحب کو جس والہانہ انداز میں خراج تحسین پیش کیا اس کے چند نمونے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔- چنانچہ اخبار "نوائے وقت " لاہور ۲۴ اگست ۱۹۴۸ء نے لکھا۔ہندوستان نے کشمیر کا قضیہ یو این او میں پیش کر دیا چوہدری صاحب پھر نیویارک پہنچے۔۱۶ / فروری ۱۹۴۸ء کو آپ نے یو این او میں دنیا بھر کے چوٹی کے دماغوں کے سامنے اپنے ملک وملت کی وکالت کرتے ہوئے مسلسل ساڑھے پانچ گھنٹے تقریر کی۔ظفر اللہ کی تقریر ٹھوس دلائل اور حقائق سے لبریز تھی۔۔۔کشمیر کمیشن کا تقرر ظفر اللہ کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مسلمان کبھی نہ بھولیں گے۔-۲- اخبار " سفینہ " ( ۲ جولائی ۱۹۴۹ء) نے تبصرہ کیا کہ :- سر محمد ظفر اللہ خان نے مسئلہ کشمیر اس خوبی اور جانفشانی سے پیش کیا کہ انہوں نے اپنے حریف آئنگر کو شکست فاش دیدی اور میدان سیاست میں آنے کا نہیں چھوڑا۔اکیس ہفتوں کے قلمی اور عقلی معرکوں کے بعد سر ظفر اللہ اپنے وطن لوٹے۔۔۔جس دن وادی کشمیر کا الحاق حکومت پاکستان سے اعلان کیا جائے گا تو سر ظفر اللہ خان کی عزت اور شہرت اور بھی بڑھ جائے گی ان کی شخصیت حکومت پاکستان کی تاریخ میں درخشندہ ستارہ رہے گی۔۳ - اخبار " احسان لاہور (۲۱ / فروری ۱۹۵۰ء) نے لکھا:- یہ امر ہر لحاظ سے باعث مسرت ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستانی مقدمہ کے تارو پود بکھیر کر پاکستانی وزیر خارجہ نے ساری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان کا کشمیرت کوئی تعلق نہیں اس کے برخلاف پاکستان کا کشمیر سے جغرافیائی اقتصادی مذہبی اور تمدنی اعتبار سے ہمیشہ کا قریب ترین تعلق ہے ویسے چھ گھنٹہ تقریر کرنا بھی دنیا کی سب سے بڑی انجمن میں کوئی آسان کام نہیں اس سے مقرر کی غیر معمولی قوت ، تقریر اور محنت ہی کا اندازہ نہیں ہوتا۔بلکہ خود مسئلہ زیر بحث کی صداقت بھی آشکار ہوتی ہے کیونکہ معاملات کے واقف کار لوگ بخوبی جانتے ہیں جب تک موضوع میں جان نہ ہو محض لفظی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے اپنے دعوئی کے ثبوت میں ٹھوس حقائق اور واقعات پیش کئے۔- اخبار " تنظیم " پشاور (۳۰ جولائی ۱۹۵۰ء) نے لکھا۔حضرت مرزا بشیر محمود نے اپنی جماعت کو مسلمانوں کے سواد اعظم سے وابستگی کے لئے خطبات و بیانات ارشاد فرمائے کشمیر کے سلسلہ میں آپ کی جدوجہد عیاں ہے آپ کے والد کے ایک بہت بڑے چہیتے مرید خاں سر محمد ظفر اللہ خاں قادیانی نے جس قابلیت سے مجلس اقوام میں پاکستان۔۔۔اور کشمیر کے مسائل پیش کئے ہیں وہ آتی دنیا کے لئے مشعل راہ اور تاریخ میں سنہری حروف سے نقش کرنے کے قابل ہیں۔بھارتی پریس پر چوہدری صاحب کی تقریروں کا کیا رد عمل ہوا۔اس کا اندازہ مندرجہ ذیل