تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 724 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 724

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 696 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد سید فصل نهم اہل کشمیر کی طرف سے چوہدری کشمیر کے الحاق کامسئلہ پہلے پہل جنوری ۱۹۴۸ء میں سکیورٹی کونسل کے سامنے پیش ہوا تھا ظفر اللہ خان صاحب کی سلامتی میں۔حکومت بھارت اس یقین کے ساتھ سلامتی کونسل میں نمائندگی کونسل میں گئی تھی کہ پاکستان کو حملہ آور قرار دے دیا جائے گا۔اور اس کے لئے پوری ریاست پر قبضہ جمانے کی راہ ہمیشہ کے لئے ہموار ہو جائے گی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے اہل کشمیر کے حق ارادیت اور تحریک آزادی کشمیر کی اس قابلیت اور عمدگی سے نمائندگی کی کہ دنیا پر بھارتی موقف کی غیر معقولیت ہی نہیں اس کی جارحانہ روش بھی واضح ہو گئی۔رسالہ طلوع اسلام " کراچی مارچ ۱۹۴۸ ء نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا۔پراپیگنڈا یعنی وہ فن شریف جس کی بنیاد اس دعوے پر ہے کہ جھوٹ کو سو مرتبہ دہرائیے وہ سچ بن کر دکھائی دے گا۔اقوام مغرب کا سب سے بڑا موثر حربہ یہیں ابلیسانہ فریب کاری ہے اور ان کے شاگردان رشید مملکت ہندیہ کے ارباب سیاست کے ترکش کا سب سے زیادہ کارگر تیری دروغ با خانه عیاری دجل و فریب اور کذب و فسوں سازی کے یہی وہ رسیوں کے سانپ تھے جن کی پٹاری یہ جادوگران عمد حاضر سرخیل غداران عبد اللہ کا شمیری کے سر پر رکھ کر اقوام متحدہ کی عدالت عالیہ میں بغرض نگاہ قریبی پہنچے۔اس جزم و یقین کے ساتھ کہ حق و باطل کی ان غوغا آرائیوں اور جھوٹ کی ان طمع سازیوں کے نیچے دب کر رہ جائے گا اور وہ سرزمین کشمیر کی ڈگری لے کر فاتح و منصور واپس لوٹیں گے۔لیکن حسن اتفاق سے پاکستان کو ایک ایسا قابل وکیل مل گیا جس نے حق و صداقت پر مبنی دعوے کو اس انداز سے پیش کیا کہ اس کے دلائل وبراہین عصائے موسوی بن کر رسیوں کے ان تمام سانپوں کو نگل گئے اور ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ ان الباطل کان زھوقا باطل بنا ہی اس لئے ہوتا ہے کہ حق کے مقابلہ میں میدان چھوڑ کے بھاگ جائے۔ہم پاکستان کو اس عدیم النظیر کامیابی پر مستحق ہزار تبریک و تہنیت سمجھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدائے بر حق اسے حق و باطل کے ہر معرکہ میں کامیابی عطا کرے اور اس کے دشمن اس طرح خاسرو نامراد واپس لوٹا کریں کہ شریفوں کی مجلس میں پھر منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔