تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 723
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 695 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مستقبل پاکستان کے مستقبل سے وابستہ ہے آج اچھا کھانے اور اچھا پہننے کا سوال نہیں۔پاکستان کے مسلمانوں کو خود فاقے رہ کر اور ننگے رہ کر بھی پاکستان کی مضبوطی کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں پاکستان کی مضبوطی کشمیر کی آزادی کے ساتھ وابستہ ہے "۔اس کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں مختلف اہم شہروں میں پبلک لیکچر دیئے۔جن میں خاص طور پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو مجاہدین کشمیر کی فراخ دلی سے امداد کرنے کی پر زور تحریک فرمائی اس ضمن میں حضور نے لاہور میں بھی ۲ دسمبر ۱۹۴۷ء کو ایک اہم لیکچر دیا جس کا خلاصہ اخبار "نظام " (لاہور) نے ۴ / دسمبر۷ ۱۹۴ء کی اشاعت میں بایں الفاظ شائع کیا۔" مسئلہ کشمیر پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔کشمیر کا ہندوستان میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ہر سمت سے گھیر لیا جائے۔اور اس کی طاقت کو ہمیشہ زیر رکھا جائے انہوں نے فرمایا کہ باشندگان پاکستان کو کشمیر کے جہاد حریت میں ہر قسم کی امداد کرنی چاہئے۔مجاہدین کشمیر میں نہایت بہادرانہ جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کو گرم کپڑوں کی فوری اشد ضرورت ہے جو ان کو فوراً پہنچائے جائیں"۔اخبار "سفینہ " لاہور (۴/ دسمبر ۱۶۱۹۴۷) نے حضور کے یہ الفاظ شائع کئے۔"پاکستان کے باشندوں کو کشمیر کی جنگ آزادی جیتنے کے لئے پوری پوری کوشش کرنی چاہئے اس میں پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے استحکام اور دفاع کا راز ہے کشمیر میں مجاہدین مشکل ترین حالات کے باوجود جنگ لڑرہے ہیں۔انہیں گرم کپڑوں کی اشد ضرورت ہے"۔اخبار "زمیندار" (۴/ دسمبر ۱۹۴۷ء) نے اس تقریر کا ملخص یہ شائع کیا کہ "امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ایک میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے باشندگان پاکستان سے اپیل کی کہ مجاہدین کشمیر کو جو پسماندہ عوام کی خاطر جنگ آزادی لڑرہے ہیں۔ہر قسم کی امداد دی جائے مجاہدین کی فتح سے پاکستان کی دفاعی لائن بہت مضبوط ہو جائے گی"۔انجمن مهاجرین جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام حضرت خلیفتہ المسیح کی سرپرستی میں ۱۹۴۸ء میں "انجمن مہاجرین جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام ہوا۔اس انجمن نے جس کے جملہ اخراجات کے کفیل حضور تھے اس دور میں کشمیر کے خستہ حال اور مصیبت زدہ پناہ گزینوں کی ہر ممکن خدمت کی۔