تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 712
تاریخ احمدیت۔جلدی 684 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سے اس امر کا بھی ثبوت پیش کیا۔کہ دھرم تبدیل کرنے پر کسی ہندو کو جائیداد سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔آپ کے دید منتر اور سمرتیوں کے شلوک سنسکرت میں پڑھنے سے حاضرین خاص طور پر متاثر ہوئے۔"e "کشمیر چھوڑ دو مارچ ۱۹۴۷ء میں بیع نامہ امرتسر پر پوری ایک صدی ہو چکی تھی۔لہذا شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے اپنے بعض دوستوں کے ساتھ مشورہ سے یہ آواز بلند کی کہ یہ معاہدہ منسوخ کر دیا جائے اس پر وہ اپنے بعض رفقاء سمیت ۲۱ / مئی ۱۹۴۶ء کو گرفتار کرلئے گئے اور سرینگر پر مٹری راج قائم کر دیا گیا۔نیز عوام کو (امیرا کدل کے سوا) باقی پلوں پر چلتے ہوئے جبرا ہاتھ اٹھوا کر چلایا گیا اور مہاراجہ صاحب کے حق میں نعرے لگائے گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان مظلومان کشمیر سے اظہار ہمدردی کیا۔مگر ساتھ ہی ایجی ٹیشن کرنے والوں کو نصیحت فرمائی کہ موجودہ شورش میں ایک بہت بڑا نقص یہ ہے کہ اس کی ابتداء خود مہاراجہ صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف الزامات لگانے سے کی گئی ہے "۔دوسری طرف مہاراجہ صاحب کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی رعایا کی عزت قائم کریں اور ان پر ظلم کو روکیں کیونکہ بادشاہ وہی ہے جو اپنی رعایا کو بیٹوں کی طرح سمجھے۔حضور کے اس ارشاد کے مطابق اخبار "اصلاح" نے بھی جہاں تحریک اٹھانے والوں کو تہذیب و شائستگی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی وہاں ملٹری راج کے مظالم پر زبر دست احتجاج کیا اور لکھا۔” یہ حکومت نہیں بلکہ اندھیر گردی ہے کہ اصل مجرم نہ مل سکا تو غیر مجرم کے گلے میں ہی پھندا ڈال دیا“۔علاوہ ازیں جماعت احمد یہ کشمیر نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایات کے مطابق ایک حد تک اس تحریک میں دلچسپی لی اور چودھری عبد الواحد صاحب نے شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے مقدمہ کے واقعات اپنی کتاب "کشمیر چھوڑ دو" میں لکھے۔جسے پیر علی محمد صاحب کتب فروش حبہ کدل نے شائع کر دیا تھا۔