تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 713
تاریخ احمدیت جلد 685 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل هشتم) آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد مجاہدین کشمیر کے لئے اعانت کی اپیل ، حضرت امام جماعت احمدیہ کی اقوام متحدہ سے متعلق ایک نصیحت انجمن مهاجرین جموں و کشمیر اور مسلم کانفرنس کا قیام آزادی کشمیر کا ساتواں دور ۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو شروع ہوا جبکہ اسیروں کے رستگار " سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے مبارک ہاتھوں سے آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔چنانچہ سردار گل احمد خاں صاحب کو ثر سابق چیف پلیٹی آفیسر جمہوریہ حکومت کشمیر کا بیان ہے کہ یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء کو جونا گڑھ میں عارضی متوازی حکومت کا اعلان کیا گیا اور نواب جو نا گڑھ کو معزول کیا گیا۔جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے دیکھا کہ یہی وقت کشمیریوں کی آزادی کا ہے تو آپ نے کشمیری لیڈروں اور ورکروں کو بلایا۔میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ مفتی اعظم ضیاء الدین صاحب ضیاء کو عارضی جمہوریہ کشمیر کا صدر بنایا جائے۔مگر انہوں نے انکار کیا اس کے بعد ایک اور نوجوان قادری صاحب کو کہا گیا۔اس نے بھی انکار کیا۔آخر میں قرعہ خواجہ غلام نبی صاحب گلکار انور صاحب کے نام پڑا۔دو اکتوبر ۱۹۴۷ء کو گجرات میں ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں غضنفر علی خاں وغیرہ سے مشورہ ہوا۔مشورہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی پلیڈ ر مسودہ تیار کیا گیا۔اس کی نقل بذریعہ ماسٹر امیر عالم صاحب کو ٹلی اور چوہدری رحیم داد صاحب حال سب جج بھمبر آزاد کشمیر جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لاہور بھیج دیا گیا۔سیلاب کی وجہ سے راولپنڈی اور لاہور کی ریل بند تھی۔مرزا صاحب نے خواجہ غلام نبی صاحب گلکار انور کو اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں لاہور سے گوجرانوالہ بھیج دیا۔