تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 711 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 711

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 683 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل ہفتم) "شاهی تحقیقاتی کمیشن اور کشمیر چھوڑ دو" کی تحریک شاہی ee تحقیقاتی کمیشن کے سامنے جون ۱۹۴۴ء میں حکومت کشمیر کی طرف سے سر گنگا ناتھ (چیف جسٹس کشمیر) کی زیر صدارت خواجہ غلام نبی صاحب گلکار چوہدری ایک شاہی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا۔تا عبد الواحد صاحب اور خواجہ ریاست کا آئندہ آئین و نظام اس طرز پر ڈھالا عبدالرحمن صاحب ڈار کے بیانات جاسکے کہ ریاست کے مختلف فرقے یکساں طور پر زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کر سکیں۔اس کمیشن میں مسلمانان کشمیر کی نمائندگی خواجہ غلام نبی صاحب گل کار (جنرل سیکرٹری مسلم ویلفیئر ایوی ایشن ، چوہدری عبد الواحد صاحب (مدیر اعلیٰ اصلاح" و امیر جماعت ہائے احمدیہ کشمیر) اور خواجہ عبد الرحمان صاحب ڈار (سرپنچ پنچایت ناسنور) نے کی۔اور خصوصاً چوہدری عبد الواحد صاحب نے اپنے مفصل و مبسوط بیان میں ریاستی عوام کا صحیح نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔جس پر مسلمانوں کے علاوہ بعض ہری جنوں اور سکھوں نے بھی آپ کو مبارکباد دی - D اور مورخ کشمیر منشی محمد الدین صاحب فوق ایڈیٹر اخبار "کشمیری" نے لکھا۔چوہدری عبد الواحد صاحب کا بیان شاہی کمیشن میں ریاست کی آزادی اقتصادی اور ہر قسم کی کیفیت پر ایک بے لاگ تبصرہ ہے ایسا مفصل، جامع اور مفید بیان کسی اور نے کب دیا ہو گا "۔۲۹ جون ۱۹۴۴ء کو شاہی تحقیقاتی کمیشن - مولوی ناصر الدین عبداللہ صاحب کا بیان کے سامنے جماعت احمدیہ کے مبلغ مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب ، مولوی فاضل دید بھوشن کا ویہ تیر تھ کی اہم شہادت ہوئی جس میں آپ نے دید منتروں اور سمرتیوں کے شلوکوں سے ثابت کیا کہ قدیم زمانہ کے آریہ گائے کی قربانی کیا کرتے تھے۔اور نہ صرف اسے برا نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ اسے باعث ثواب یقین کرتے تھے۔آپ نے دیدوں