تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 700 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 700

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 672 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یه آہستہ آہستہ دور ہو جائے گا اس وقت ضرورت ہے کہ آپ کسی صاحب کو کشمیر روانہ کریں۔جو کہ مجھے مشورہ دے کہ ایسے حالات میں۔۔۔۔کام کس طرح چلایا جا سکتا ہے اگر آپ نے مہربانی نہ کی ہوتی اور تھوڑی بہت مالی امداد روانہ نہ کی ہوتی تو میں ابتک پریشانیوں کی وجہ سے میدان سے ہٹ گیا ہو تا۔میں کو شش کر رہا ہوں کہ کسی صاحب کو آپ کے پاس روانہ کر سکوں جو کہ تمام حالات آپ کو پہنچائے گا اور آپ سے مشورہ حاصل کرے گا۔میں بھی حالات کو بہتر بنانے کی سعی میں لگا ہوا ہوں۔امید ہے کہ بزرگوں کی دعا سے خداوند کریم ہم لوگوں کو کامیاب کرے گا فقط آپ کا خیر اندیش شیخ محمد عبد اللہ " - تیسرا مکتوب «بچهواره۔سرینگر ۱۰/ستمبر مکر می جناب شمس صاحب السلام علیکم۔آپ کا تار بلا شکریہ واقعی خداوند کریم نے فضل و کرم کیا اور کانفرنس کا وقار از سر نو قائم ہو گیا۔مجھے سب سے زیادہ خوشی یہی ہے کہ کشمیر سے تمام ہمارے ہی آدمی کامیاب ہو گئے الحمد للہ۔میری طرف سے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں عرض و تسلیم پہنچادر بیجئے۔مصروفیت کی وجہ سے میں اس سے قبل نہ لکھ سکا۔شاہ صاحب معلوم نہیں کہاں چلے گئے ہیں پتہ نہیں ملتا تمہ سب خیریت ہے۔آپ کا دوست شیخ محمد عبد الله - قادیان میں مجلس کشامرہ کی بنیاد ۱۹۳۶ء میں ” مجلس کشامرہ" کے نام سے ایک انجمن کا قیام ہوا جس کی غرض وغایت یہ تھی کہ ریاست جموں د کشمیر کے طلباء اور دیگر کشمیری احباب کے لئے (جو قادیان میں موجود تھے ) فلاح و بہبود کی تجاویز کر کے ان پر عمل کیا جائے یہ مجلس کچھ عرصہ با قائدہ کام کرتی رہی مگر بعض کارکنوں کے چلے جانے کے باعث معطل سی ہو گئی وسط ۱۹۴۶ء میں خواجہ غلام نبی صاحب گلکار کی تحریک پر اس کا احیاء ہوا اور اس کا نام۔" المجمن کشامرہ " رکھا گیا۔۵۸