تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 699
تاریخ احمد میمت - جلد ۵ 671 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ امید ہے کہ میرے مخطوط آپ کو مل گئے ہونگے۔مزید حالات یہ ہیں کہ حکومت نے مجھ کو اخیر وقت تک دھو کہ میں رکھا۔اور میں نے جو جو باتیں پیش کر دی تھیں۔ان پر غور کرنے کا وعدہ کیا بہر حال جو حالات میرے پیش آئے ان کا ذکر میں نے ایک درخواست میں کر دیا ہے جو کہ میں آپ کو لفافہ ہذا میں ارسال کرتا ہوں اور جو۔۔۔۔درخواست وزیر اعظم کو میں نے بھیجدی ہے دیکھئے نتیجہ کیا بر آمد ہوتا ہے ہم نے کوشش کی کہ اپنے آدمی ہر ایک علاقہ سے اسمبلی کے لئے کھڑے ہوں لیکن وقت کی تنگی نے اور حکومت کی دھوکہ دہی کی وجہ سے شاید تمام علاقوں سے اپنے خاص آدمی کھڑے نہ ہوئے ہوں۔ابھی پورا معلوم نہیں سرینگر سے تو پانچ آدمی اپنے کھڑے کر دیئے ہیں بارہ مولہ اسلام آباد گولہ گام پلوامہ سے بالترتیب شیخ محمد اکبر محمد افضل بیگ۔عبدالرحمن ڈار ، خواجہ اکبر ڈار ہمارے آدمی ہیں سرینگر سے غلام محمد صادق - سید حسین شاہ جلالی- مولوی محمد عبد الله وکیل خواجہ علی محمد خواجہ سعد اللہ صاحب شہداد کھڑے ہوئے ہیں۔غلام نبی گلکار کو میں نے اس لئے روکا۔کہ مخالف جماعت کا تمام زور صرف مسئلہ احمدیت پر ہو گا۔اس لئے اگر ہم نے صرف مولوی عبد اللہ صاحب وکیل کو کامیاب کر دیا۔تو یہ کافی شکست۔۔۔۔کو ہوگی۔اگر غلام نبی صاحب بھی دوسرے وارڈ سے کھڑا ہو تا تو ہماری طاقت تقسیم ہو جاتی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ مخالف پارٹی کا مد مقابل صرف مولوی عبداللہ صاحب ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ غلام نبی صاحب کے مقابلہ میں خواجہ احمد اللہ صاحب شہداد تھے جو کہ جماعت اہلحدیث کے پریذیڈنٹ رہ چکے ہیں اور ایک اسکول بھی چلاتے تھے پیسہ والے بھی ہیں اور کافی رسوخ رکھتے ہیں۔اگر غلام نبی کھڑا ہو تا تو ہمارے خلاف بہت شدید پرو پیگنڈا ہوتا ہے۔۔۔میں اس اصول کا پابند ہوں کہ سیاست میں عقیدہ کو کوئی دخل نہ ہونا چاہئے مگر میرے مد نظر کامیابی اور نا کامیابی کا سوال ہے۔اور صرف انہی وجوہات کی بناء پر میں نے غلام نبی کو مشورہ دیا۔۔۔کہ اس کو کھڑا نہیں ہونا چاہئے جہاں تک اصول کا سوال ہے مولوی محمد عبد اللہ صاحب کا کامیاب ہونا کافی ہے۔۔۔میں نے غلام نبی صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے آپکو آزاد رکھے۔۔۔حکومت کے اشارہ پر ہمارے آدمی کے مقابل ممبری کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو کامیابی کی امید نہیں ہے الغرض اسمبلی کیا ہے میرے لئے ایک اور مصیبت کا سامان ہے آگے ہی مخالفت کیا کم تھی کہ اب اور اضافہ ہو رہا ہے بہر حال خدا مددگار ہے اور دوستوں کا حوصلہ۔سب سے اہم مشکل میرے سامنے جو ہے وہ مالی مشکلات ہیں ایجی ٹیشن کیا رہی ہے میرے لئے قرضہ کی مصیبت ہر طرف سے بل پیش ہو رہے ہیں۔پٹرول کابل ، کرایہ کابل عملہ کی تنخواہ کابل اور ہماری حالت یہ ہے کہ کھانے کو میسر نہیں ہوتا ہے لوگ ایسے بے حس ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کام کروں مگر کیسے کام کروں اس کے متعلق خاموش شاید یہ ایجی ٹیشن اور تکالیف کا نتیجہ ہے اور شاید یہ اثر